صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 25 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 25

سحيح مسلم جلد سیزدهم 25 كتاب فضائل الصحابة هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ الْدَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بالْجَنَّةِ فَجِئْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ أَذِنَ وَيُبَشِّرُكَ وَيَلْحَقُنِي فَقُلْتُ إِنْ يُرِدِ اللهُ بِفُلَانِ يُرِيدُ اندر آئے اور رسول اللہ علیہ کے ساتھ آپ کے دائیں أَخَاهُ خَيْرًا يَأْت به فَإِذَا إِنْسَانُ يُحَرِّكُ الْبَابَ طرف کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنے دونوں فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ پاؤں کنویں میں لٹکا دیئے جیسے نبی ﷺ نے کیا تھا فَقُلْتُ عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُول الله اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا پھر میں واپس آیا اور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقَلْتَ بیٹھ گیا میں اپنے بھائی کو وضوء کرتے چھوڑ آیا تھاوہ مجھے سے آملنے والا تھا۔پھر میں نے کہا کہ اگر اللہ نے فلاں کے لئے بھلائی کا ارادہ کیا تو اسے لے آئے گا۔اس سے ان کی مراد اُن کا بھائی تھا۔اس دوران رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ کوئی آدمی دروازہ کوحرکت دینے لگا تو میں نے پوچھا قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى کہ کون ہے؟ انہوں نے کہا عمر بن خطاب۔میں نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفْ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّى کہا ٹھہریئے۔پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت رِجْلَيْهِ فِي الْبِكْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ میں آیا۔آپ کو سلام عرض کیا اور کہا کہ عمر ا جازت نْ يُرِدِ اللهُ بِفَلَانٍ خَيْرًا يَعْنِي أَخَاهُ يَأْتِ بِهِ طلب کرتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا اسے اجازت فَجَاءَ إِنْسَانٌ فَحَرَّكَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا دے دو اور جنت کی بشارت دو۔پھر میں حضرت عمر فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ عَلَى رِسْلِک کے پاس آیا اور کہا کہ رسول اللہ علیہ نے اجازت قَالَ وَجِئْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دی ہے اور آپ کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ الدَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ راوی کہتے ہیں کہ وہ اندر آئے اور رسول اللہ علی بَلْوَى تُصِيبُهُ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ ادْخُلْ کے ساتھ آپ کے بائیں طرف کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا دیئے۔وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھر میں واپس آیا اور بیٹھ گیا اور میں نے کہا کہ اگر اللہ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُكَ قَالَ فَدَخَلَ نے فلاں کی بہتری چاہی تو اسے لے آئے گا یعنی ان فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِىَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنَ کا بھائی۔اس دوران کوئی آدمی آیا اور دروازہ کو الشَّقِّ الْآخَر قَالَ شَريكَ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ حرکت دی۔میں نے کہا کون ہے ؟ انہوں نے کہا