صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 24
صحیح مسلم جلد سیزدهم 24 24 کتاب فضائل الصحابة الْمَسْجِدَ فَسَأَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تشریف لے گئے ہیں اور اس طرف گئے ہیں۔وہ وَسَلَّمَ فَقَالُوا خَرَجَ وَجَّهَ هَاهُنَا قَالَ (حضرت ابو موسیٰ) کہتے ہیں تو میں آپ کے پیچھے فَخَرَجْتُ عَلَى إِثْرِه أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّى دَخَلَ پیچھے چلتا ہوا آپ کے بارہ میں پوچھتا ہوا نکلا أَرِيس قَالَ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ وَبَابُهَا یہانتک کہ آپ بئر ارلیس پر تشریف لے گئے۔وہ د حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ (حضرت ابو موسی ) کہتے ہیں میں دروازہ کے پاس مِنْ جَرِيدٍ۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا بیٹھ گیا اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں کا تھا یہانتک کہ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَها رسول اللہ علیہ اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے اور ﷺ وضوع کیا تو میں آپ کے پاس گیا۔آپ ہنر اریس پر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کی منڈیر کے وسط میں هُوَ قَدْ جَلَسَ وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِشْرِ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَاب فَقُلْتُ لَأَكُونَنَّ بَوَّابَ رَسُول اللَّه تھے۔آپ نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا اور انہیں کنویں میں لٹکا دیا۔حضرت ابو موسی کہتے ہیں پھر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرِ میں نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا پھر فَدَفَعَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ واپس مڑا اور دروازے کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے فَقُلْتُ عَلَى رِسْلِكَ قَالَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ يَا کہا کہ آج میں ضرور رسول اللہ ﷺ کا دربان بنوں رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ گا۔اس دوران حضرت ابو بکر آئے اور انہوں نے انْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى دروازہ کو دھکا دیا۔میں نے کہا کون ہے؟ انہوں نے قُلْتُ لأبي بَكْرِ ادْخُلْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى کیا ابو بکر۔میں نے کہا ٹھہریئے۔حضرت ابو موسی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ کہتے ہیں میں گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ابو بکر أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اجازت مانگتے ہیں۔آپ نے فرمایا انہیں اجازت دو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفْ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ اور جنت کی خوشخبری دو۔حضرت ابو موسی" کہتے ہیں فِي الْبَشِّرِ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں گیا اور میں نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ اندر وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ آجائیں ، رسول اللہ علہ آپ کو جنت کی بشارت فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَكْتُ أَخي يَتَوَضًا دیتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں پھر حضرت ابو بکر ابوبکر