صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 263
صحیح مسلم جلد سیزدهم 263 كتاب البر والصلة والآداب عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ اور وہ (حضرت ام سلیم) حضرت انس کی والدہ ہیں۔حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنس رسول الله ﷺ نے اس یتیم بچی کو دیکھا تو فرمایا تم بْنُ مَالِكِ قَالَ كَانَتْ عِنْدَ أُمَّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وہی ہو، بہت بڑی ہوگئی ہو، اب تمہاری عمر نہ بڑھے۔أَمُّ أُنس فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تب وہ یتیم بچی روتے ہوئے حضرت ام سلیم کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ فَقَالَ آنت هيَة لَقَدْ پاس آگئی تو حضرت ام سلیم نے پوچھا اے میری۔كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكَ فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى پیاری بیٹی تجھے کیا ہوا ہے؟ (اس) لڑکی نے کہا اللہ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَكَ يَا کےنبی ﷺ نے میرے خلاف دعا کی ہے کہ میری عمر بُنَيَّةُ قَالَتِ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى نہ بڑھے۔اب کبھی میری عمر نہیں بڑھے گی۔یا اس نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي فَالْآنَ لَا کہا میرا زمانہ۔اس پر حضرت ام سلیم جلدی سے اپنی يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ اوڑھنی اوڑھتے ہوئے باہر آ ئیں اور رسول اللہ اللہ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّی سے جاملیں۔رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا لَقِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اے ام سلیم ! کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا اے فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری یتیم بچی کے خلاف مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ دعا کی ہے؟ آپ نے فرمایا ام سلیم ہوا کیا ہے؟ وہ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ کہنے لگیں اس کا خیال ہے کہ آپ نے اسے دعا دی سُلَيْمٍ قَالَتْ زَعَمَتَ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا ہے کہ نہ اس کی عمر بڑھے اور نہ اس کا زمانہ بڑھے۔يَكْبَرَ سِتُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْلُهَا قَالَ فَضَحِكَ راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہ یہ مسکرائے پھر رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا فرمایا اے ام سلیم ! کیا تجھے میرے رب سے میری أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنْ شَرْطِي عَلَى رَبِّي شرط کا پتہ نہیں جو میں نے اپنے رب سے کی ہوئی أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ہے؟ میں نے کہا کہ میں تو ایک بشر ہوں اور ایک بشر أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا کی طرح خوش ہوتا ہوں اور ایک بشر کی طرح ناراض يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ ( بھی ) ہوتا ہوں۔پس جس کسی کے خلاف میں اپنی أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلِ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ امت میں سے اس کے خلاف دعا کروں جس کا وہ