صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 264
صحیح مسلم جلد سیزدهم 264 كتاب البر والصلة والآداب طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بهَا مِنْهُ يَوْمَ اہل نہ ہو تو ( الله ) اسے قیامت کے دن اس کے لئے الْقِيَامَةِ و قَالَ أَبُو مَعْنِ يُقيِّمَةٌ بِالتَّصْغِيرِ فِي طہارت ، پاکیزگی اور اپنے قرب کا موجب بنادے الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثَةِ مِنَ الْحَدِيثِ [6627] جوا سے قیامت کے دن اس کے قریب کرے۔ایک روایت میں ( اليتيمة کی بجائے ) اس کی تصغیر يُقيِّمة ہے۔964699) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :4699: حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں الْعَنَزِيُّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارِ وَاللَّفْظُ لابن بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ علیہ تشریف الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِد حَدَّثَنَا لائے تو میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔وہ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ عَنِ ابْن کہتے ہیں حضور تشریف لائے اور اپنی ہتھیلی سے میری عَبَّاسٍ قَالَ كُنتُ أَلْعَبُ مَعَ الصَّبْيَانِ فَجَاءَ گردن پر تھپکی دی۔پھر فرمایا جاؤ اور معاویہ کو میرے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس بلا لاؤ۔وہ کہتے ہیں میں آیا اور میں نے کہا کہ وہ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابِ قَالَ فَجَاءَ فَحَطَانِي کھانا کھا رہے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا اللہ اس کا حَطَّأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ پیٹ نہ بھرے۔ابن مثنی کہتے ہیں میں نے امیہ سے فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي کيا حَطَائِي کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا آپ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتَ نے میری گردن پر ہتھیلی سے تھپکی دی۔هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ قَالَ ابْنُ ایک روایت میں ( فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ کی الْمُثَنَّى قُلْتُ لِأُمَيَّةَ مَا حَطَانِي قَالَ فَفَدَني بجاۓ) فَاحْتَبَات کے الفاظ ہیں یعنی میں آپ سے قَفْدَةً (97) حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ چھپ گیا۔أَخْبَرَنَا النَّصْرُ بْنُ شُمَيْل حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسِ يَقُولُ كُنتُ أَلْعَبُ مَعَ الصَّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ ° بمثله [6629,6628]