صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 196
صحیح مسلم جلد سیزدهم 196 کتاب فضائل الصحابة يَقُولُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نے اسے معمولی سے گھر أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادِ ثُمَّ مِنْ قَرَن كَانَ اور تھوڑے سے سامان میں چھوڑا ہے۔انہوں بِهِ بَرَضٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَم لَهُ وَالِدَةٌ ( حضرت عمر) نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ فَإِنِ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے پاس اہل یمن سے مدد کرنے والوں کے ساتھ مراد ( قبیلہ ) سے پھر قرن اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفَرَ لَكَ فَافْعَلْ فَأَتَى الْبُرْدَةُ [6492] وہ سوائے ایک درہم کی جگہ کے صحت پاچکا ہے۔اس سے اولیس بن عامر آئے گا۔اسے برص تھا جس سے أُوَيْسًا فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي قَالَ کی والدہ ہے جس سے وہ بہت نیک سلوک کرتا ہے۔اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ أَنتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ اگر وہ اللہ پر قسم کھائے تو وہ ضرور اس کی قسم پوری صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي قَالَ لَقِيتَ عُمَرَ قَالَ کر دے۔پس اگر تیرے لئے ممکن ہو کہ وہ تیرے نَعَمْ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ فَفَطِنَ لَهُ النَّاسُ فَانْطَلَقَ لئے بخشش طلب کرے۔تو ایسا ضرور کرنا۔چنانچہ عَلَى وَجْهِهِ قَالَ أُسَيْرٌ وَكَسَوْتُهُ بُرْدَةً فَكَانَ وه ( حج پر آنے والا سردار ) اولیس کے پاس آیا اور کہا كُلَّمَا رَآهُ إِنْسَانُ قَالَ مِنْ أَيْنَ لِأُوَيْس هَذه میرے لئے بخشش مانگو۔انہوں (حضرت اولیس) نے کہا کہ تم ابھی ابھی نیک سفر سے واپس آئے ہو تم میرے لئے استغفار کرو۔انہوں نے کہا تم میرے لئے استغفار کرو۔انہوں (اولیس) نے کہا تم ابھی ابھی ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو تم میرے لئے استغفار کرو۔انہوں (اولیس) نے کہا کیا تم حضرت عمر سے ملے ہو۔اس نے کہا ہاں۔پھر انہوں نے اس کے لئے بخشش مانگی۔تو لوگ ان کا مقام سمجھ گئے۔وہ اس جگہ پر سے چلے گئے۔اس پر وہ کہتے ہیں میں نے ان کو ایک چادر پہننے کو دی۔اسیر نے کہا کہ ان کا کپڑا ایک چادر تھی جب بھی کوئی انسان انہیں دیکھا تو پوچھتا کہ اولیس کو یہ چادر کہاں سے ملی؟