صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 195 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 195

صحیح مسلم جلد سیزدهم 195 کتاب فضائل الصحابة هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ اور فرمایا کہ آپ ہی اولیس بن عامر ہیں؟ انہوں نے أَوْفَى عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا ” مراد قبیلہ سے اور پھر (بنی) قرن سے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔آپ نے الْخَطَّابِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ أَمْدَادُ أَهْلِ الْيَمَنِ سَأَلَهُمْ فَكَانَ کہا کیا آپ کو برص ( کا مرض) تھا جس سے سوائے أَفِيكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ حَتَّى أَتَى ایک درہم کی جگہ کے آپ صحت یاب بھی ہو چکے ہیں؟ عَلَى أُوَيْسٍ فَقَالَ أَنتَ أُويْسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ انہوں نے کہا جی ہاں۔آپ نے کہا آپ کی والدہ نَعَمْ قَالَ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنِ قَالَ نَعَمْ قَالَ ہیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔انہوں ( حضرت عمرؓ) بِكَ بَرَضٌ فَبَرَأَتَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارے پاس اہل یمن کی کمک کے ساتھ مراد دِرْهَم قَالَ نَعَمْ قَالَ لَكَ وَالِدَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ قبیلہ سے پھر (بنی) قرن سے اولیس بن عامر آئے گا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسے برص تھا جس سے وہ سوائے ایک درہم کی جگہ يَقُولُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ کے صحت یاب ہو چکا ہے۔اس کی والدہ ہیں جن سے أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ وہ بہت نیک سلوک کرتا ہے۔اگر وہ اللہ پر قسم کھائے فَبَرَأَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَم لَهُ وَالِدَةٌ تو وہ ضرور اس کی قسم پوری کر دے۔پس اگر تمہارے لئے ممکن ہو کہ وہ تمہارے لئے استغفار کرے تو ایسا کرے۔(حضرت عمر نے اولیس سے کہا ) تم میرے اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ فَاسْتَغْفِرْ لئے بخشش مانگو۔چنانچہ انہوں نے آپ کے لئے لِي فَاسْتَغْفَرَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ بخشش مانگی۔پھر حضرت عمر نے ان سے کہا کہ تم الْكُوفَةَ قَالَ أَلَا أَكْتُبُ لَكَ إِلَى عَامِلَهَا قَالَ کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا کوفہ کا آپ نے أَكُونُ فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ فَلَمَّا فرمایا کیا میں وہاں کے عامل کی طرف تمہارے لئے نہ لکھ دوں ؟ انہوں نے کہا کہ خاکسار لوگوں میں سے هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّه لَأَبَرَّهُ فَإِن كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ حَجَّ رَجُلٌ مِنْ ہونا مجھے زیادہ محبوب ہے۔وہ (اسیر) کہتے ہیں پھر أَشْرَافِهِمْ فَوَافَقَ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ أُويْسٍ قَالَ جب اگلا سال آیا اور ان (بنی قرن) کے سرداروں تَرَكْتُهُ رَتْ الْبَيْتِ قَلِيلَ الْمَتَاعِ قَالَ میں سے ایک آدمی نے حج کیا۔پھر وہ حضرت عمر سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ملا تو آپ نے اس سے اولیں کے بارہ میں