صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 155 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 155

صحیح مسلم جلد سیزدهم 155 کتاب فضائل الصحابة اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ الْحَبَشِيَّةُ هَذه الْبَحْرِيَّةُ هَذهِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ نے کہا کہ اسماء بنت عمیں۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ حبشیہ نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَة فَنَحْنُ ہے، یہ بحری سفر کرنے والی ہے۔حضرت اسماعہ نے کہا أَحَقُّ بِرَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جی ہاں۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا ہم ہجرت میں تم منكُمْ فَغَضَبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً كَذَبْتَ يَا لوگوں پر سبقت لے چکے ہیں اس لئے ہم تمہاری عُمَرُ كَلَّا وَاللَّهِ كُنتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى نسبت رسول اللہ ﷺ کے زیادہ حقدار ہیں۔اس پر حضرت اسما کو غصہ آگیا اور کہا یہ یہ بات نہیں:۔اے عمر ! آپ نے ٹھیک نہیں کہا۔خدا کی قسم آپ لوگ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارٍ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاء حبل الله رسول اللہ علی کے ساتھ تھے۔حضور تمہارے الْبَغَضَاء فِي الْحَبَشَة وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي بھوکے کو کھانا کھلاتے اور تمہارے نا دان کو وعظ رَسُولِهِ وَايْمُ اللهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا فرماتے تھے اور ہم دور دراز رہنے والے دشمنوں کے أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ علاقہ یا سرزمین میں تھے اور یہ اللہ اور اس کے رسول کی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ كُنَّا خاطر تھا اور خدا کی قسم میں اس وقت تک کچھ نہ کھاؤں تُؤذَى وَنُخَافُ وَسَأَذْكُرُ ذَلكَ لرَسُول گی نہ پیوں گی جب تک آپ نے جو کہا ہے اس کا ذکر الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ وَ وَالله رسول اللہ علہ سے نہ کرلوں اور ہمیں تکلیف بھی دی جاتی تھی اور ڈرایا بھی جاتا تھا۔میں تو رسول اللہ میکی لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ سے ضرور اس کا ذکر کروں گی اور آپ سے دریافت فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کروں گی۔خدا کی قسم نہ تو میں جھوٹ بولوں گی اور نہ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا کوئی پیچ دار بات کروں گی اور نہ اس میں کوئی زیادہ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کروں گی۔وہ (حضرت ابو موسی) کہتے ہیں جب لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابه في ﷺ تشریف لائے تو انہوں (حضرت اسماء) نے هجْرَةً وَاحِدَةً وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفينة عرض کیا اے اللہ کے نبی! حضرت عمر نے یہ یہ بات هِجْرَتَانِ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَی کہی ہے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایاوہ تمہاری وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً نسبت میرے زیادہ حقدار نہیں ہیں ان کی اور ان کے