صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 150 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 150

صحیح مسلم جلد سیزدهم 150 کتاب فضائل الصحابة أَلَا تَنْبُتُ فَكَفَّ فَالْتَقَيْتُ أَنا وَهُوَ فَاخَتَلَفْنَا اس کا پیچھا کیا اور اسے کہ رہا تھا کیا تمہیں شرم نہیں أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ فَضَرَبْتُهُ بالسَّيْف فَقَتَلْتُهُ آتی ؟ کیا تم عرب نہیں ہو؟ تم ٹھہرتے کیوں نہیں؟ مَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي عَامِرٍ فَقُلْتُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ چنانچہ وہ رک گیا پھر میرا اور اس کا آمنا سامنا ہوا۔دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا پھر میں نے اس قَتَلَ صَاحِبَكَ قَالَ فَانْزِعُ هَذَا السَّهْمَ پر تلوار سے وار کیا اور اسے قتل کردیا پھر میں فَتَزَعْتُهُ فَتَرَا مِنْهُ الْمَاءُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي حضرت ابو عامر کے پاس واپس آیا اور کہا کہ اللہ نے الطَلِقْ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ کے دشمن کو مار دیا ہے انہوں نے کہا اس تیر کو باہر وَسَلَّمَ فَأَقْرِتُهُ مِنِّي السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ يَقُولُ نکالو۔میں نے اسے کھینچا تو اس میں سے پانی پھوٹ کر بہنے لگا۔اس پر انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے! عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشِ وَقَدْ أَثْرَ لَكَ أَبُو عَامِرِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ وَاسْتَعْمَلَنِي رسول اللہ کے پاس جاؤ اور میری طرف سے أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ وَمَكَثَ يَسِيرًا ثُمَّ إِنَّهُ آپ کی خدمت میں سلام عرض کرو کہ ابو عا مر آپ کی مَاتَ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ خدمت میں عرض کرتا ہے کہ آپ میرے لئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْت مغفرت کی دعا کریں۔وہ کہتے ہیں حضرت ابو عامر نے مجھے لوگوں کا امیر مقرر کر دیا۔چنانچہ وہ کچھ دیر (زندہ) رہے۔پھر وہ فوت ہوگئے۔جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس گیا اور آپ کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنْبَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ خدمت میں حاضر ہوا تو آپ گھر میں کھجور کی بنی أَبِي عَامِرٍ وَقُلْتُ لَهُ قَالَ قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي ہوئی چارپائی پر تھے اور اس پر کپڑا تھا اور چٹائی کے فَدَعَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نشان آپ کی کمر پر اور دونوں پہلوؤں پر تھے۔میں نے آپ کو اپنے اور ابو عامر کے بارہ میں بتایا اور رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ بِمَاءِ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ آپ سے عرض کیا کہ حضرت ابو عامر نے کہا تھا کہ آپ اغْفِرْ لِعُبَيْد أَبِي عَامِرٍ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ کی خدمت میں عرض کرنا کہ حضور میری مغفرت کی الله إبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دعا کریں۔رسول اللہ علیہ نے پانی منگوایا اس سے فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ أَوْ مِنَ النَّاسِ فَقُلْتُ وضوء کیا پھر اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے