صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 137
صحیح مسلم جلد سیزدهم 137 کتاب فضائل الصحابة مِنْ رَشْقِ بِالنَّبْلِ فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ جب وہ آپ کے پاس آئے تو حضرت حسان نے کہا فَقَالَ اهْجُهُمْ فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ فَأَرْسَلَ کہ اب آپ لوگوں کے لئے وہ وقت آگیا ہے کہ تم إلَى كَعْب بن مالك ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى حَسَّانَ اس شیر کو بلا بھیجو جو اپنی دم ہلاتا ہے۔پھر انہوں نے ثابت فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ حَسَّانُ قَدْ اپنی زبان نکالی اور اسے ہلانے لگے اور کہا اس کی قسم ! آنَ لَكُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَى هَذَا الْأَسَدِ جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں ضرور اپنی الصَّارِبِ بِذَنَبِهِ ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ فَجَعَلَ زبان سے انہیں چمڑے کے کاٹنے کی طرح کاٹ کر يُحَرِّكُهُ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ رکھ دوں گا۔اس پر رسول اللہ علیہ نے فرمایا کہ لَأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الْأَدِيمِ فَقَالَ رَسُولُ جلدی مت کرو، ابو بکر قریش کے نسب سے سب سے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَعْجَلْ فَإِنَّ أَبَا زیادہ واقف ہیں اور میرا نسب بھی ان میں ہے بَكْرِ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا وَإِنَّ لِي فِيهِمْ یہانتک کہ وہ تمہیں میر انسب واضح نہ کر دیں۔چنانچہ نَسَبًا حَتَّى يُلخص لَكَ نَسَبِي فَأَتَاهُ حَسَّانُ حضرت حسان ان کے پاس گئے اور واپس آئے اور ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ لَحْصَ لي عرض کیا یا رسول اللہ ! ابو بکر نے مجھے آپ کا نسب وضاحت سے بتا دیا ہے۔اس کی قسم جس نے آپ کو نَسَبَكَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَسْأَنَّكَ مِنْهُمْ حق کے ساتھ بھیجا ہے میں ضرور آپ کو ان سے كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِين قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ اس طرح نکال لوں گا جیسے آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پھر میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ رسول اللہ علہ کو حسان سے فرماتے ہوئے سنا کہ جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ مدافعت کرتے رہو گے یقیناً اس وقت تک وَسَلَّمَ يَقُولُ هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى روح القدس تمہاری تائید کرتا رہے گا۔وہ فرماتی وَاسْتَفَى قَالَ حَسَّانُ ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا حسان نے ان کی ہجو کی اور تسلی کر دی اور تسلی پالی۔حضرت حسان نے کہا: