صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 131
صحیح مسلم جلد سیزدهم 131 کتاب فضائل الصحابة فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَإِذَا أَنَا بِجَوَادَّ عَنْ کیوں یہ بات کی ہے۔اس دوران میں کہ میں سو رہا شمَالِي قَالَ فَأَخَذْتُ لأخُذَ فِيهَا فَقَالَ لِي لا تھا کہ میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے مجھے کہا کہ تَأْخُذْ فِيهَا فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ کھڑے ہو جاؤ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس کے ساتھ چل پڑا۔انہوں نے کہا کیا دیکھتا ہوں کہ میرے بائیں طرف وسیع راستے ہیں۔وہ کہتے ہیں قَالَ فَإِذَا جَوَادُّ مَنْهَجٌ عَلَى يَمِينِي فَقَالَ لِي خُذْ هَاهُنَا فَأَتَى بِي جَبَلًا فَقَالَ لِيَ اصْعَدْ میں ان میں جانے لگا تو اس نے مجھے کہا کہ ان میں قَالَ فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ مت جاؤ کہ یہ بائیں طرف والوں کے رہتے ہیں۔عَلَى اسْتِي قَالَ حَتَّى فَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا وہ کہتے ہیں کچھ کھلے رستے ہیں اور ایک واضح راستہ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ میرے دائیں طرف ہے۔اس نے مجھے کہا کہ اس پر السَّمَاء وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ فِي أَعْلَاهُ چلو۔پھر وہ مجھے ایک پہاڑ کے پاس لے گیا اور مجھے حَلْقَةً فَقَالَ لِيَ اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا قَالَ قُلْتُ کہا کہ اس پر چڑھو۔انہوں نے کہا میں ( چڑھنے ) كَيْفَ أَصْعَدُ هَذَا وَرَأْسُهُ في السَّمَاءِ قَالَ لگا جب بھی میں چڑھنے لگتا پشت کے بل گر جاتا۔میں نے کئی بار ایسا کیا۔انہوں نے کہا پھر وہ مجھے لے کر في فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي قَالَ فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ چلا یہانتک کہ وہ مجھے ایک ستون کے پاس لے گیا بِالْحَلْقَةِ قَالَ ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَحَرَّ قَالَ جس کا اوپر کا سرا آسمان میں تھا اور اسکا نچلا حصہ زمین وَبَقيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَة حَتَّى أَصْبَحْتُ قَالَ میں تھا اور اس کے اوپر ایک کڑا تھا اس نے مجھے کہا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس پر چڑھ جاؤ۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا میں اس پر فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَّا الطُّرُقَ الَّتِي کیسے چڑھوں ،اس کا اوپر کا سراتو آسمان میں ہے۔وہ رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَاب کہتے ہیں پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھالا۔وہ کہتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ میں اس کڑے سے الشِّمَالِ قَالَ وَأَمَّا الطَّرْقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ لَنک رہا ہوں۔پھر اس نے ستون پر ضرب لگائی تو وہ يَمِينكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَمَّا گر گیا لیکن میں اس کڑے سے لٹکا رہا یہانتک کہ صبح الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ وَأَمَّا ہوگئی۔وہ کہتے ہیں پھر میں نبی ﷺ کی خدمت میں