صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 128
صحیح مسلم جلد سیزدهم 128 كتاب فضائل الصحابة أَهْلِ الْجَنَّةِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَصَلَّی ہو گیا۔میں بھی اندر گیا پھر ہم باتیں کرنے لگے جب رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ وه مانوس ہو گئے تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے جب فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ فَتَحَدَّثْنَا فَلَمَّا آپ داخل ہوئے تھے ایک آدمی نے ایسے ایسے کہا۔اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ إِنَّكَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ قَالَ انہوں نے کہا سبحان اللہ کسی کو نہیں چاہئے کہ وہ ایسی رَجُلٌ كَذَا وَكَذَا قَالَ سُبْحَانَ الله مَا يَنْبَغِی بات کہے جو وہ نہیں جانتا ہاں میں تمہیں بتاتا ہوں کہ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأَحَدَلُكَ لَم بات کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُول اللہ میں ایک رؤیا دیکھی جسے میں نے آپ کے سامنے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ بیان کیا۔میں نے دیکھا کہ میں ایک باغ میں ہوں اور انہوں نے اس کی وسعت ، اس کی سبز گھاس اور رَأَيْتُنِي فِي رَوْضَةٍ ذَكَرَ سَعَتَهَا وَعُشْبَهَا وَحُضْرَتَهَا وَوَسْطَ الرَّوْضَة عَمُودُ مِنْ اس کی سرسبزی کا ذکر کیا۔اس باغ کے وسط میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے حديد أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي اور اوپر والا حصہ آسمان میں ہے اور اس (ستون) السَّمَاء في أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِيَ ارْقَهُ کے اوپر ایک عُروہ (کڑا) ہے۔مجھ سے کہا گیا کہ فَقُلْتُ لَهُ لَا أَسْتَطِيعُ فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ قَالَ اس پر چڑھو۔میں نے اسے کہا کہ مجھ میں طاقت نہیں۔ابْنُ عَوْنِ وَالْمِنْصَفُ الْخَادِمُ فَقَالَ بِشَيَابِي پھر میرے پاس ایک منصف آیا۔ابن عون کہتے ہیں منْ خَلْفِي وَصَفَ أَنَّهُ رَفَعَهُ مِنْ خَلْفِهِ بِيَدِهِ که مِنصف سے مراد خادم ہے۔اس نے پیچھے سے فَرَقيتُ حَتَّى كُنتُ في أَعْلَى الْعَمُودِ میرے کپڑوں کو پکڑ کر اٹھایا اور انہوں نے بیان کیا فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَة فَقِيلَ لِيَ اسْتَمْسِكْ فَلَقَدِ کہ اس نے ان کے پیچھے سے اپنے ہاتھ سے انہیں اسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى اُٹھایا۔پھر میں اوپر چڑھنے لگا یہانتک کہ میں ستون النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تِلْكَ کے اوپر تھا اور میں نے کڑے کو پکڑ لیا تو مجھ سے کہا گیا الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ وَذَلكَ الْعَمُودُ عَمُودُ اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔وہ میرے ہاتھ میں تھا الْإِسْلَامِ وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى وَأَنتَ کہ میں بیدار ہو گیا۔میں نے یہ (خواب) نبی مہ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ قَالَ وَالرَّجُلُ سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا وہ باغ اسلام ہے اور عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ [6381] وہ ستون بھی اسلام کا ستون ہے اور عروہ سے مراد