صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 115
صحیح مسلم جلد سیزدهم لِابْنِ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدِ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرِّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ 115 کتاب فضائل الصحابة کیں۔حضرت ابوذر کہتے ہیں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں پہلا شخص تھا جس نے آپ کو اسلامی طریق پر سلام کیا۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ پر سلامتی ہو آپ نے فرمایا تم پر بھی سلامتی ہو تم کون ہو؟ اس روایت میں یہ بھی ہے آپ نے فرمایا تم کب سے یہاں ہو ؟ ابوذر کہتے ہیں میں نے کہا پندرہ روز سے ہوں اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابو بکر نے (حضور علیہ کی خدمت میں ) عرض کیا آج رات اس کی ضیافت کا شرف آپ مجھے عطا کر دیں۔4507{133 و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ 4507 حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مکہ میں نبی ﷺ کی بعثت کی خبر حضرت ابوذر کوملی تو حَاتِمٍ وَتَقَارَبَا فِي سَيَاقِ الْحَدِيث وَاللَّفْظُ انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس وادی تک سوار ہوکر جاؤ اور میرے لئے اس شخص کے بارہ میں علم حاصل کرو جو گمان کرتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔اس کی بات سنو پھر میرے پاس آؤ۔چنانچہ وہ چلا گیا یہا ٹک کہ وہ مکہ پہنچا اور آپ کی بات سنی پھر وہ حضرت ابوذر کی طرف واپس آیا اور کہا قَالَ لِأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ کہ میں نے اس کوکر یمانہ اخلاق کا حکم دیتے ہوئے لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ دیکھا ہے اور ایسا کلام ( کرتے ) دیکھا جو شعر نہیں السَّمَاءِ فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ہے۔وہ کہتے ہیں جو میرا مقصد تھا اس میں تم نے مجھے انتني فَانْطَلَقَ الْآخَرُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ تشفی نہ دِلائی۔اس پر انہوں (حضرت ابوذر) نے 4507 : اطراف : مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل أبي ذر 4506 الْخَبَرُ من تخريج : بخارى كتاب المناقب باب قصة اسلام ابي ذر 3522 كتاب مناقب الانصار باب اسلام ابی ذر 3861