صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 113
صحیح مسلم جلد سیزدهم 113 كتاب فضائل الصحابة صلى الله أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتَ قَالَ مَا بِي رَغْبَةً اسے کھانا کھلانے کی مجھے اجازت دیجئے۔رسول اللہ یا کہ عَنْ دِينِكَ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ اور حضرت ابو بکر چلے اور میں ان کے ساتھ چلا۔فَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينَكُما حضرت ابو بکر نے دروازہ کھولا اور ہمارے لئے طائف کے خشک انگور لانے لگے اور یہ پہلا کھانا تھا جو فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَاحْتَمَلْنَا حَتَّی میں نے وہاں کھایا پھر میں کچھ عرصہ ٹھہرا رہا پھر میں أَتَيْنَا قَوْمَنَا عَفَارًا فَأَسْلَمَ نَصفُهُمْ وَكَانَ رسول الله علیہ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا يَوْمُهُمْ أَيْمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ الْعَفَارِيُّ وَكَانَ کہ مجھے ایک کھجوروں والی زمین دکھائی گئی ہے۔میرا سَيِّدَهُمْ وَقَالَ نِصْفُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ خیال ہے کہ وہ میٹرب ہے۔کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کرو گے؟ قریب ہے کہ اللہ تمہارے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا ذریعہ سے انہیں فائدہ پہنچا دے۔اور ان کی وجہ سے فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تمہیں اجر دے۔پھر میں انیس کے پاس آیا تو اس نے الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي وَجَاءَت کہا کہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَتُنَا مُسْلِمُ میں اسلام لے آیا ہوں اور تصدیق کی ہے۔اس نے کہا کہ مجھے تیرے دین سے کوئی بے رغبتی نہیں ہے عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ یقیناً میں نے بھی اسلام قبول کیا ہے اور تصدیق کی رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَفَارُ ہے۔پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے تو اس نے کہا غَفَرَ اللهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ حَدَّثَنَا کہ مجھے بھی تم دونوں کے دین سے کوئی بے رغبتی إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا النَّصْرُ نہیں ہے یقیناً میں نے بھی اسلام قبول کیا اور تصدیق بْنُ شُمَيْلِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَة کی پھر ہم سوار ہوئے یہانتک کہ اپنی قوم غفار میں آئے۔تو ان میں سے نصف نے اسلام قبول کر لیا۔حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ایماء بن رحضه غفاری جو اُن کے سردار تھے ان کی بَعْدَ قَوْلِهِ قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنظُرَ امامت کرتے تھے۔ان میں سے نصف نے کہا جب قَالَ نَعَمْ وَكُنْ عَلَى حَذَرِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ رسول الله لا مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم بھی فَإِنَّهُمْ قَدْ شَفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ اسلام قبول کرلیں گے۔پس جب رسول اللہ علی