صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 112 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 112

صحیح مسلم جلد سیزدهم فَوَضَعَ 112 کتاب فضائل الصحابة ضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقُلْتُ فِي ہے جس سے منہ بھر جاتا ہے ( یعنی نا قابل بیان ہے ) نَفْسِي كَرِهَ أَنِ الْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ فَذَهَبْتُ پھر رسول اللہ علیہ تشریف لائے یہانتک کہ حجر اسود کو بوسہ دیا اور آپ نے اور آپ کے ساتھی نے آخذُ بِيَدِهِ فَقَدَعَني صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز پڑھی جب آپ نے اپنی مِنِّي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا نماز پڑھ لی تو حضرت ابوذر کہتے ہیں میں پہلا تھا جس قَالَ قُلْتُ قَدْ كُنتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ بَيْنَ نے اسلامی طریق پر آپ کو سلام کیا۔وہ کہتے ہیں میں لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ قَالَ قُلْتُ نے عرض کیا السلام علیک یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمَنْتُ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ۔پھر آپ نے فرمایا تم کون ہو ؟ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا میں غفار سے حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا أَجِدُ عَلَى ہوں۔راوی کہتے ہیں پھر آپ نے اپنا ہاتھ نیچے کیا كَبِدِي سُحْفَةَ جُوعِ قَالَ إِنَّهَا مُبَارَكَةً إِنَّهَا اور اپنی انگلیاں اپنی پیشانی پر رکھیں۔میں نے اپنے طَعَامُ طُعْمٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ دل میں کہا کہ میرا اپنے آپ کو غفار کی طرف منسوب ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ کرنا آپ نے نا پسند فرمایا ہے۔میں آپ کے ہاتھ کو پکڑنے لگا تو آپ کے ساتھی نے مجھے روک دیا۔وہ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرِ آپ کو مجھ سے زیادہ جانتے تھے۔پھر آپ نے اپنا وَالطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ سر اٹھایا پھر فرمایا تم یہاں کب سے ہو؟ وہ کہتے ہیں يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ وَكَانَ ذَلِكَ الطَّائِفِ وَكَانَ ذَلِكَ میں نے کہا میں یہاں تمہیں دن رات سے ہوں۔آپ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ نے فرمایا کہ تمہیں کھانا کون کھلاتا ہے؟ حضرت ابوذر ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میرے لئے زمزم کے پانی کے علاوہ اور کھانا نہیں میں اتنا موٹا ہو گیا یہانتک کہ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ وُجُهَتْ لِي أَرْضَ ذَاتُ نَحْلٍ لَا میرے پیٹ پر بل پڑ گئے ہاں میں اپنے آپ میں أَرَاهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنتَ مُبَلِّغْ عَنِّي قَوْمَكَ بھوک کی کوئی کمزوری محسوس نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا اللهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ يه ( زمزم ) مبارک ہے۔یہ ایسا کھانا ہے جو سیر کر دیتا فَأَتَيْتُ أَيْسًا فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ صَنَعْتُ ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا یا رسول اللہ ! آج رات عَسَى