صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 111 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 111

صحیح مسلم جلد سیزدهم 111 کتاب فضائل الصحابة وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخفَةٌ جُوعِ قَالَ کہتے ہیں پھر میں زمزم پر آیا اور اپنے اوپر سے خون کو فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِصْحِيَانَ إِذْ دھویا اور اس ( زمزم کا پانی پیا اور اے میرے بھتیجے ! میں اس حالت میں تمہیں دن رات رہا اور زمزم کے پانی کے علاوہ میرے لئے کوئی کھانا نہ تھا۔میں اتنا ضُرِبَ عَلَى أَسْمَحَتِهِمْ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَانِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَةَ موٹا ہو گیا کہ میرے پیٹ میں شکنیں پڑنے لگیں لیکن قَالَ فَأَتَنَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ أَنْكِحَا میں نے اپنے پیٹ میں بھوک کی کوئی کمزوری نہیں أَحَدَهُمَا الْأُخْرَى قَالَ فَمَا تَنَاهَنَا عَنْ پائی۔وہ کہتے ہیں کہ ایک رات جب چاند پوری قَوْلِهِمَا قَالَ فَأَتَنَا عَلَيَّ فَقُلْتُ هَنّ مثل طرح چمک رہا تھا کہ اس دوران ان پر یعنی اہل مکہ پر مِثْلُ نیند طاری ہوگئی اور کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کر رہا تھا قَالَ مَا قَالَ لَكُمَا قَالَتَا إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةٌ الْحَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لَا أَكْنِي فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ اور ان میں سے دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی وَتَقُولَان لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا قَالَ تھیں۔وہ (حضرت ابوذر ) کہتے ہیں کہ وہ اپنے فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ طواف کے دوران میرے پاس سے گزریں۔میں وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَا بطَان قَالَ مَا نے کہا کہ ایک کا دوسرے سے نکاح کر دو۔وہ ( ابوذر) کہتے ہیں وہ دونوں اپنی بات سے نہ رکیں وہ کہتے لَكُمَا قَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا ہیں وہ دونوں (پھر اپنے طواف میں) میرے پاس سے گزریں تو میں نے بغیر کسی کنایہ کے اساف اور تَمْلَأُ الْقَمَ وَجَاءَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (نائلہ کو گالی دی۔وہ دونوں ہلاکت کی بد دعا کرتے وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ ہوئے ، یہ کہتے ہوئے لوٹیں کاش یہاں ہمارے هُوَ وَصَاحِبُهُ ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ لوگوں میں سے کوئی ہوتا۔وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کو قَالَ أَبُو ذَرْ فَكُنْتُ أَنَا أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّة رسول اللہ اللہ اور حضرت ابو بکر ملے۔وہ اتر رہے تھے۔آپ نے فرمایا تم دونوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں الْإِسْلَامِ قَالَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ نے کہا کہ کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان ایک الله فَقَالَ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ صالی ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس نے تم سے کیا کہا أَنتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ ہے؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسی بات کہی ہے