صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 110
صحیح مسلم جلد سیزدهم 110 کتاب فضائل الصحابة بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي فَانْطَلَقَ أُنَيْس حَتَّى أَتَى مَكَّةَ پھیر دیتا ادھر میں رخ کر لیتا۔میں رات کی نماز پڑھتا فَرَاثَ عَلَيَّ ثُمَّ جَاءَ فَقُلْتُ مَا صَنَعْتَ قَالَ یہانتک کہ جب اس کا آخری حصہ آجاتا تو میں اس لَقيتُ رَجُلًا بِمَكَّةَ عَلَى دِينَكَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ طرح پڑ جاتا جس طرح کوئی چادر ہو جس پر دھوپ آجاتی۔انیس نے کہا کہ مجھے مکہ میں کوئی کام ہے۔أَرْسَلَهُ قُلْتُ فَمَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ يَقُولُونَ پس تم ( پیچھے ) میرا کام سنبھالو۔پس انیس چلا گیا وہ شَاعِرٌ كَاهِنٌ سَاحِرٌ وَكَانَ أُلَيْسَ أَحَدَ مکہ آیا اور میرے پاس آنے میں دیر کی۔پھر وہ الشُّعَرَاءِ قَالَ أُنَيْس لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ آیا تو میں نے کہا کہ یہ تم نے کیا کیا ؟ اس نے کہا کہ الْكَهَنَةِ فَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ میں مکہ میں ایک شخص سے ملا ہوں جو تیرے دین پر ہے۔اس کا گمان ہے کہ اللہ نے اسے بھیجا ہے۔میں عَلَى أَقْرَاء الشَّعْرِ فَمَا يَلْتَيمُ عَلَى لِسَان نے کہا کہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا وہ اسے أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شَعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ شعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِق شاعر کا ہن ، جادو گر کہتے ہیں۔انیس بھی شاعر تھا۔وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ قَالَ قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّی انہیں نے کہا کہ میں نے کاہنوں کی باتیں سنی ہیں لیکن أَذْهَبَ فَأَنظُرَ قَالَ فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَفْتُ جو وہ کہتے ہیں وہ نہیں ہے۔میں نے آپ کی بات کو رَجُلًا مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ شعر کے اوزان واقسام پر پرکھا ہے۔میرے علاوہ (بھی) کسی کی زبان پر یہ نہیں آسکتا کہ یہ شعر ہے۔اللہ الصَّابِي فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقَالَ الصَّابِي فَمَالَ کی قسم یقیناً وہ سچا ہے اور یہ ضرور جھوٹے ہیں۔وہ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى (حضرت ابوذر ) کہتے ہیں میں نے کہا کہ تم میرا کام خَرَرْتُ مَعْشِيًّا عَلَيَّ قَالَ فَارْتَفَعْتُ حِينَ سنبھالو اور میں جاؤں اور دیکھوں۔وہ کہتے ہیں میں ارْتَفَعْتُ كَأَلي نُصُبْ أَحْمَرُ قَالَ فَأَتَيْتُ مکہ آیا تو میں نے ان میں سے ایک کمزور شخص کو پایا تو اس سے کہا کہ وہ شخص کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو۔زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ وَشَرِبْتُ مِنْ اس نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ صابی ہے۔مَائِهَا وَلَقَدْ لَبِثْتُ يَا ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ بَيْنَ پس وادی والے ہر ڈھیلا اور ہڈی لے کر مجھ پر پل لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَا مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ پڑے یہانتک کہ میں غش کھا کر گر پڑا۔وہ کہتے ہیں فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا پس جب میں اٹھا تو گویا میں ایک سرخ بت تھا۔وہ