صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 92
صحیح مسلم جلد سیزدهم 92 کتاب فضائل الصحابة الْمِيسَمَ قَالَ وَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي راوی کہتے ہیں کہ حضرت ام سلیم کہنے لگیں اے ابو طلحہ ! حَجْرِهِ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اب میں پہلے جیسا (درد) محسوس نہیں کرتی ، چلیں۔وَسَلَّمَ بِعَجْوَة مِنْ عَجْوَة الْمَدِينَةِ فَلَا كَهَا ہم چل پڑے راوی کہتے ہیں جب وہ دونوں (مدینہ) آگئے تو اُن کو دردزہ ہوئی۔پھر انہوں نے ایک لڑکے فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظْهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ کو جنم دیا۔(حضرت انس کہتے ہیں ) میری ماں نے مجھے کہا اے انس ! اس وقت تک کوئی اسے دودھ نہ الله اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا إِلَى پلائے گا جب تک تم صبح اسے رسول اللہ ﷺ کی حُبِّ الْأَنْصَارِ السَّمْرَ قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ خدمت میں نہ لے جاؤ۔چنانچہ جب صبح ہوئی تو میں وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ نے اسے اُٹھایا اور اسے لے کر رسول اللہ علیہ کی حَدَّثَنَا بنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ۔طرف چل پڑا۔وہ کہتے ہیں میں نے آپ کو پایا کہ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِت حَدَّثَنِي آپ کے پاس ایک نشان لگانے والا آلہ ہے۔جب أَنَسُ بْنُ مَالِكَ قَالَ مَاتَ ابْنُ لِأَبِي طَلْحَةَ آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا لگتا ہے ام سلیم کے بچہ ہوا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ [6323,6322] ہے۔میں نے عرض کیا جی ہاں۔چنانچہ آپ نے نشان لگانے والا آلہ رکھ دیا۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے لا کر آپ کی گود میں ڈال دیا اور رسول اللہ ملے نے مدینہ کی عجوہ کھجور منگوائی اور اسے اپنے منہ میں اتنا چبایا کہ وہ نرم ہوگئی پھر آپ نے اسے اس بچہ کے منہ میں ڈالا تو وہ اسے چوسنے لگا۔وہ کہتے ہیں رسول الله علیہ نے فرمایا دیکھو انصار کی کھجور سے محبت۔وہ کہتے ہیں پھر آپ نے اس کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔