صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 91
صحیح مسلم جلد سیزدهم 91 کتاب فضائل الصحابة فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں (حضرت ام سلیم) نے کہا پھر اپنے بیٹے کی بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا في لَيْلَتكُمَا قَالَ وفات پر صبر کرو۔وہ (حضرت انس ) کہتے ہیں وہ غابر فَحَمَلَتْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ الله صَلَّى الله اس پر ناراض ہوئے اور کہا کہ تم نے مجھے بتایا نہیں حتی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَكَانَ کہ میں آلودہ ہوا۔پھر تم نے مجھے میرے بیٹے کے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بارہ میں بتایا۔چنانچہ وہ (حضرت ابوطلحہ) چل پڑے یہانتک کہ رسول اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا اور آپ کو بتایا جو ہوا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے اس پر مِنَ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَحَاصُ فَاحْتُبِسَ فرمایا اللہ تم دونوں کی گذشتہ رات میں برکت ڈالے۔عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَالطَّلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى و ( حضرت انس) کہتے ہیں پھر وہ (حضرت اُم سلیم) وہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ إِنَّكَ حاملہ ہو گئیں۔وہ (حضرت انس) کہتے ہیں کہ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رسول الله و سفر میں تھے اور وہ (حضرت اُم سلیم) رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔اور جب رسول اللہ علی اللہ وَقَدِ احْتُبِسْتُ بِمَا تَرَى قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ سفر سے واپس مدینہ تشریف لاتے تو رات کو بغیر يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ الطَلق اطلاع داخل نہ ہوتے۔پس جب وہ لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو انہیں (حضرت ام سلیم کو ) دردزہ ہونے فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاصُ حِينَ قَدِمَا لگی تو حضرت ابوطلحہ کو ان کے پاس روک لیا گیا اور فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضعُهُ أَحَدٌ حَتَّى تَعْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُول اللَّه : رسول الله روانہ ہو گئے۔وہ (حضرت انس) کہتے ہیں کہ ابوطلحہ کہنے لگے اے میرے رب تو جانتا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ احْتَمَلْتُهُ ہی ہے کہ یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ میں تیرے فَانْطَلَقْتُ به إِلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ رسول کے ساتھ باہر جاؤں جب وہ باہر جائیں اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ فَلَمَّا جب وہ (شہر کے ) اندر آئیں تو میں ان کے ہمراہ رَآنِي قَالَ لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ قُلْتُ نَعَمْ اندر آؤں اور تو جانتا ہے کہ مجھے روک لیا گیا ہے۔