صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 65
مسلم جلد دوازدهم 65 كتاب السلام هُوَ قَالَ فِي بِتْرِ ذِي أَرْوَانَ قَالَتْ فَأَتَاهَا ہے؟ اس نے کہا کنگھی اور کنگھی کرنے کی وجہ سے رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في كرنے والے بالوں میں اور نر کھجور کے خوشہ کے أُناس مِنْ أَصْحَابهِ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ وَاللَّهِ غلاف میں۔اس نے کہا وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا بنی لَكَأَنَّ مَاءَهَا لقَاعَةُ الْحنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا اروان کے کنویں میں۔وہ (حضرت عائشہ ) فرماتی رُءُوسُ الشَّيَاطِين قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ ہیں رسول اللہ ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس رسول اللَّهِ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ قَالَ لَا أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي ( کنویں) کے پاس گئے۔پھر فرمایا اے عائشہ! بخدا! اللهُ وَكَرِهْتُ أَنْ أَثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا اس کا پانی مہندی رنگا تھا اور اس کے کھجور کے درخت فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفَنَت (44) حَدَّثَنَا أَبُو ایسے تھے گویا سانپ کے سر ہوں۔وہ (حضرت عائشہ) كُرَيْب حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فرماتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ الہ آپ نے أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولُ اللهِ اسے جلا کیوں نہ دیا؟ آپ نے فرمایا نہیں۔مجھے تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبِ اللہ نے شفاء دے دی اور میں نے ناپسند کیا کہ لوگوں الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ میں شر بھڑ کاؤں۔اس لئے میں نے حکم دیا تو اسے وَقَالَ فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ زمین میں دبا دیا گیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِكْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا ایک اور روایت میں (سَحَرَ کی بجائے) سُحِرَ نَحْل وَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرِجْهُ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں یہ بھی ہے وَلَمْ يَقُلْ أَفَلَا أَحْرَقْتُهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرْتُ رسول اللہ ہے اس کنویں کی طرف گئے اور اس میں دیکھا اور اس پر کھجور کا درخت تھا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اسے نکال پھینکیں مگر اس روایت میں أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ اور بهَا فَدُفَنَتْ [5704,5703] فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ کے الفاظ نہیں ہیں۔ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 349,348۔مزعومہ سحر والی روایات کے بارہ میں یہ حوالہ ضرور دیکھ لیا جائے۔☆