صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 59
صحیح مسلم جلد دوازدهم 59 كتاب السلام رَجُلٌ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ میرے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا أَرَدْتُ أَنْ أَبيعَ فِي ظِلِّ دَارِكَ قَالَتْ إِنِّي إِنْ اے ام عبد اللہ ! میں ایک غریب آدمی ہوں میں چاہتا رَخَصْتُ لَكَ أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ ہوں کہ تمہارے گھر کے سایہ میں کاروبار کروں۔فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ فَجَاءَ فَقَالَ يَا أُمَّ حضرت اسماء نے کہا اگر میں تمہیں اجازت دے بھی عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أن أبيع في دول تو حضرت زبیر “ انکار کر دیں گے۔پس تم آنا اور ظِلٍّ دَارِكِ فَقَالَتْ مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي مجھ سے زبیر کی موجودگی میں اجازت طلب کرنا۔وہ شخص آیا اور اس نے کہا اے ام عبد اللہ میں ایک فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ مَا لَكِ أَنْ تَمْتَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ فَبِعْتُهُ غریب آدمی ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ کے گھر کے سایہ میں کاروبار کروں۔انہوں نے کہا کیا تجھے مدینہ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي میں میرا ہی گھر نظر آیا ہے؟ حضرت زبیر نے انہیں کہا حَجْرِي فَقَالَ هَبِيهَا لِي قَالَتْ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا [5693] تمہیں کیا ہوا کہ تم ایک غریب آدمی کو کاروبار سے منع کرتی ہو۔پھر وہ تجارت کرتا رہا یہانتک کہ اس نے کچھ کمائی کرلی اور میں نے خادمہ اس کے ہاتھ پیچ دی۔حضرت زبیر میرے پاس آئے تو اس کی قیمت میری گود میں تھی۔انہوں نے کہا ( پیسے ) مجھے ہبہ کر دو۔انہوں (حضرت اسماعی) نے کہا میں انہیں صدقہ کر چکی ہوں۔