صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 305
في صحیح مسلم جلد دوازدهم [6164,6165,6166] 305 كتاب الفضائل الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ إِلَى آخِرِ الآيَةِ و کرتے تو عجیب باتیں ملاحظہ کرتے۔لیکن انہیں حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ اپنے ساتھی سے شرمندگی محسوس ہوئی۔انہوں نے کہا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حو حَدَّثَنَا عَبْدُ کہ اس کے بعد اگر میں تجھ سے کوئی سوال پوچھوں تو بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ مُوسَى پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رہنے دینا۔یقیناً میری طرف كِلَاهُمَا عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ سے تو ہر جو از پا چکا ہے۔اگر وہ صبر کرتے تو ضرور بِإِسْنَادِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ نَحْوَ حَدِيثِهِ عجیب باتیں ملاحظہ کرتے۔راوی کہتے ہیں جب آپ کسی نبی کا ذکر فرماتے تو اپنے سے یوں شروع فرماتے کہ ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور ہمارے بھائی پر اسی طرح ہم پر اللہ کی رحمت ہو۔پھر وہ دونوں روانہ ہوئے یہانتک کہ جب ایک کنجوس بستی والوں کے پاس پہنچے اور کئی مجالس میں گئے اور اس ( لبستی ) کے مکینوں سے انہوں نے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان کی میزبانی سے انکار کر دیا۔وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہتی تھی تو انہوں نے اسے سیدھا کر دیا۔اس نے کہا اگر تو چاہتا تو ضرور اس کام پر اجرت لے سکتا تھا۔اس نے کہا یہ میرے اور تمہارے درمیان (جدائی) کا وقت ہے اور اس نے اس کا کپڑا پکڑ لیا۔انہوں نے کہا اب میں تجھے اس کی حقیقت بتاتا ہوں جس پر تو صبر نہیں کر سکا۔جہاں تک کشتی کا تعلق ہے تو وہ چند غریبوں کی ملکیت تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے۔۔۔الخ۔پھر جب کشتی کو غصب کرنے والا آئے گا 3 1 - الكهف 77 2- الكهف 7879 3- الكهف 80 79 '