صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 300
حيح مسلم جلد دوازدهم 300 كتاب الفضائل الله إلَّا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ یقیناً آپ نے ایک بڑا نا پسندیدہ کام کیا ہے۔اس الْبَحْرِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَكَانَ يَقْرَأُ نے کہا کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكَ يَأْخُذُ كُلِّ سَفِينَةٍ ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔یہ پہلے سے صَالِحَةٍ غَصْبًا وَكَانَ يَقْرَأُ وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ زیادہ سخت تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر اس کے بعد میں تجھ سے کوئی سوال کروں تو پھر مجھے اپنے ساتھ نہ كَافرًا [6163] 1- الكهف : 76 75 ' رہنے دینا۔یقیناً میری طرف سے تو ہر جواز پاچکا ہے۔وہ دونوں روانہ ہوئے یہانتک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو اس کے مکینوں سے انہوں نے کھانا مانگا لیکن انہوں نے انکار کر دیا کہ ان کی میزبانی کریں۔وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گر نے والی تھی وہ کہہ رہے تھے کہ وہ جھک رہی تھی تو انہوں نے اسے سیدھا کر دیا۔خضر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اسے سیدھا کر دیا۔موسیٰ نے اس سے کہا یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے لیکن انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی اور ہمیں کھانا نہ کھلایا۔اگر آپ چاہتے تو ضرور اس پر اجرت لے سکتے تھے۔انہوں نے کہا یہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت ہے۔اب میں تجھے اس کی تعبیر بتا تا ہوں جس پر تو صبر نہیں کر سکا۔رسول اللہ مالی نے فرمایا اللہ موسیٰ پر رحم کرے۔کاش وہ صبر کرتے تو ان دونوں کا حال ہم سے بیان کر دیا جاتا۔راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پہلی دفعہ موسی " کی -2- الكهف : 7778 -3- الكهف : 7879 صر