صحیح مسلم (جلد دوازدہم)

Page 299 of 359

صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 299

صحیح مسلم جلد دوازدهم 299 كتاب الفضائل يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ إِذَا غُلَامٌ يَلْعَبُ مَعَ میرے پیچھے چلے تو مجھ سے کسی چیز کے متعلق سوال الْعَلْمَانِ فَأَخَذَ الْحَضِرُ برَأْسه فَاقْتَلَعَهُ بیده نہیں کرنا یہاں تک کہ میں خود تجھ سے اس کا کوئی ذکر فَقَتَلَهُ فَقَالَ مُوسَى أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْر چھیڑوں۔اس نے کہا ہاں پھر حضرت خضر اور موسی" نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ دونوں سمندر کے کنارے چل پڑے اتنے میں ان إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ وَهَذِهِ کے پاس سے کوئی کشتی گزری تو ان دونوں نے ان أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ سے بات کی کہ وہ انہیں سوار کر لیں انہوں نے خضر کو بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنّي پہچان لیا اور ان دونوں کو بغیر کسی اجرت کے سوار کر عُدْرًا فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ ليا۔پھر خضر نے اس کشتی کے ایک تختے کو اکھیڑ دیا۔اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا حضرت موسیٰ نے ان سے کہا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ يَقُولُ نے ہمیں بغیر کرایہ کے سوار کیا تھا۔آپ نے ان کی مَائِلٌ قَالَ الْحَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ قَالَ لَهُ کشتی میں سوراخ کر دیا ہے تا کہ کشتی والوں کو غرق کر مُوسَى قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا وَلَمْ دیں۔یقینا آپ نے ایک عجیب کام کیا ہے۔انہوں يُطْعِمُونَا لَوْ شِئْتَ لَتَخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ نے کہا میں نے کہا نہیں تھا کہ تو ہرگز میرے ساتھ صبر هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا كى استطاعت نہیں رکھ سکے گا۔اس نے کہا جو میں لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا قَالَ رَسُولُ اللهِ بھول گیا اس کا مجھ سے مؤاخذہ نہ کر اور میرے معاملہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَی میں سختی کرتے ہوئے مجھے مشقت میں نہ ڈال 2۔پھر لَوَدِدْتُ أَنَّهُ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ وہ دونوں اس کشتی سے نکلے اور اس اثناء میں کہ وہ أَخبَارِهِمَا قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ ساحل پر چل رہے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لڑکا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ الْأُولَى مِنْ مُوسَى ہے جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔خضر نسيَانًا قَالَ وَجَاءَ عُصْفُورٌ حَتَّى وَقَعَ عَلَی نے اس کو سر سے پکڑا اور اسے اپنے ہاتھ سے اوپر کھینچا حَرْفِ السَّفِينَةِ ثُمَّ نَقَرَ فِي الْبَحْرِ فَقَالَ لَهُ اور اسے قتل کر دیا۔اس پر موسیٰ نے کہا کیا آپ نے الْحَضِرُ مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمٍ ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلہ قتل کر دیا۔1- الكهف : 71 2- الكهف : 74 73 72 ,