صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 297
حیح مسلم جلد دوازدهم 297 كتاب الفضائل أَعْلَمُ مِنْكَ قَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ كَيْفَ لِي بِهِ ہوں۔موسیٰ سے کہا گیا کہ ٹوکری میں مچھلی ڈالو جہاں فَقِيلَ لَهُ احْمِلْ حُونًا في مكتلٍ فَحَيْثُ تَفْقِدُ تم مچھلی گم کر دو تو وہاں وہ ہوگا۔پھر وہ (موسی) چل الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ فَتَاهُ پڑے اور ان کے ساتھ ان کا خادم یوشع بن نون بھی وَهُوَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ فَحَمَلَ مُوسَى عَلَيْهِ چل پڑا۔پس موسی نے ٹوکری میں ایک مچھلی اٹھائی السَّلَام حُوتًا فِي مِكْتَلِ وَالطَّلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ اور پھر حضرت موسیٰ اور ان کا جو ان دونوں چلنے لگے يَمْشِيَانِ حَتَّى أَتَيَا الصَّحْرَةَ فَرَقَدَ مُوسَی یہانتک کہ وہ دونوں ایک چٹان کے پاس آئے تو عَلَيْهِ السَّلَامِ وَفَتَاهُ فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي موسیٰ علیہ السلام اور ان کا جوان سو گئے اور مچھلی ٹوکری الْمِكْتَلِ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمِكْتَلِ فَسَقَطَ فِي میں ہلنے لگی یہاں تک کہ وہ ٹوکری سے نکل کر سمندر الْبَحْرِ قَالَ وَأَمْسَكَ اللهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ میں گر گئی۔راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے اس سے پانی حَتَّى كَانَ مِثْلَ الطَّاقِ فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا کے بہاؤ کو روک دیا یہانتک وہ سرنگ کی طرح ہو گیا وَكَانَ لمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ اور مچھلی کے لئے راستہ بن گیا اور حضرت موسیٰ علیہ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا وَنَسِيَ صَاحِبُ مُوسَى السلام اور آپ کے جوان کو تعجب ہوا۔پھر وہ دونوں أَنْ يُحْبِرَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلام اپنے باقی دن اور رات بھی چلتے رہے اور موسیٰ علیہ قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا السلام کا ساتھی ان کو بتانا بھول گیا۔پھر جب موسیٰ هَذَا نَصَبًا قَالَ وَلَمْ يَنْصَبُ حَتَّى جَاوَزَ علیہ السلام نے صبح کی تو انہوں نے اپنے جوان سے کہا الْمَكَانَ الَّذِي أَمرَ به قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا کہ ہمیں صبح کا کھانا لا کر دو۔ہمیں ہمارے اس سفر کی إِلَى الصَّحْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا وجہ سے بڑی تھکان پہنچی ہے فرمایا کہ موسی " کو اس أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ وقت تھکان نہ ہوئی جب تک وہ اس جگہ سے گذر نہ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا قَالَ مُوسَى ذَلِكَ مَا گئے جہاں تک جانے کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔اس نے كُنَّا نَبْعَ فَارْتَدًا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا قَالَ کہا کیا آپ کو پتہ چلا کہ جب ہم نے چٹان پر پناہ لی يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّحْرَةَ فَرَأَى تھی تو میں مچھلی بھول گیا ؟ اور مجھے شیطان کے سوا کسی رَجُلًا مُسَجِّى عَلَيْهِ بِثَوْبِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ نے یہ بات نہ بھلائی کہ میں اسے یاد رکھتا۔پس اس (الكهف: 63)