صحیح مسلم (جلد دوازدہم)

Page 289 of 359

صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 289

صحیح مسلم جلد دوازدهم 289 كتاب الفضائل الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ شک کیا ہے۔اس (یہودی) نے کہا نہیں، اس کی قسم يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ أَعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ أَوْ جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سب انسانوں پر فضیلت لَمْ يَرْضَهُ شَكَ عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ لَا وَالَّذِي دی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے کسی آدمی اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ نے اسے ( یہ کہتے ) سن لیا اور اس (یہودی) کے قَالَ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَطَمَ وَجْهَهُ چهره پر طمانچہ مارا۔اس (انصاری) نے کہا کہ تو کہتا قَالَ تَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ ہے کہ اس کی قسم جس نے موسی کو سب انسانوں پر السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ فضیلت دی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَالَ فَذَهَبَ موجود ہیں۔راوی کہتے ہیں وہ یہودی رسول اللہ علی اللہ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا اے ابو القاسم ! وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِم إِنَّ لِي ذِمَّةً میرے لئے آپ کی ذمہ داری اور عہد ہے اور کہا وَعَهْدًا وَقَالَ فُلَانٌ لَطَمَ وَجْهِي فَقَالَ کہ فلاں نے میرے چہرے پر طمانچہ مارا ہے۔اس پر رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ رسول الله علیہ نے اس انصاری سے) پوچھا کہ تم لَطَمْتَ وَجْهَهُ قَالَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نے کیوں اس کے چہرہ پرطمانچہ مارا ؟ راوی کہتے ہیں وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی کہ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے کہا تھا کہ الْبَشَرِ وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَالَ فَغَضِبَ اس کی قسم جس نے موسی کو سب انسانوں پر فضیلت رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دی جبکہ آپ ہمارے درمیان موجود ہیں ( راوی کہتے عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ لَا ہیں ) اس پر رسول اللہ یہ ناراض ہوئے یہانتک تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ الله فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي که ناراضگی آپ کے چہرہ سے ظاہر ہونے لگی۔پھر الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے انبیاء کے درمیان فضیلت فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ قَالَ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيه نه دو کیونکہ یقینا جب صور پھونکا جائے گا سوائے اس أَحْرَى فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ کے جسے اللہ چاہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے نفش بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام آخذ کھا جائے گا۔آپ نے فرمایا پھر دوسری مرتبہ اس بِالْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتهِ يَوْمَ میں (صور) پھونکا جائے گا تو سب سے پہلا شخص میں