صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 284
صحیح مسلم جلد دوازدهم 284 كتاب الفضائل کا ہاتھ کھول دیا گیا پھر اس نے اس شخص کو بلایا جو انہیں لے کر آیا تھا اور اس شخص سے کہا کہ تو تو میرے پاس کسی شیطان کو لے آیا ہے کسی انسان کو نہیں لایا۔پس اسے میری مملکت سے نکال دو اور اسے ہاجرہ دے دو۔(راوی کہتے ہیں) وہ چلتی ہوئی آئیں جب حضرت ابراہیم نے ان کو (نماز سے فارغ ہو کر دیکھا تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ سارہ نے کہا ٹھیک ہے اللہ نے اس بدکار کے ہاتھ کو مجھ سے روکے رکھا بلکہ ایک خادمہ بھی دلوائی۔حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ کہ اے ماء السماء کے بیٹو! یہ تمہاری ماں ہے۔[42] 42 : بَاب : مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب : حضرت موسیٰ علیہ کے فضائل 1554358) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ 4358: تمام بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ نے ہمیں بن مُنَبِّهِ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رسول الله الے سے بتا ئیں اور انہوں نے کئی صلى الله ایک خیال یہ ہے کہ ابتدائی الفاظ حدیث کے بعد یہ تفصیلی تشریح راوی کی طرف سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ اِنْ قُتِلتَ وَأُخْرِقْتَ یعنی سچ کو مت چھوڑ اگر چہ تو قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔پھر جس حالت میں قرآن کہتا ہے کہ تم انصاف اور بیچ مت چھوڑ و اگر چہ تمہاری جانیں بھی اس سے ضائع ہوں اور حدیث کہتی ہے کہ اگر چہ تم جلائے جاؤ اور قتل کئے جاؤ۔مگر سچ ہی بولو تو پھر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہو تو وہ قابلِ سماعت نہیں ہوگی۔“ ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 404) 4358: اطراف مسلم کتاب الحيض باب جواز الاغتسال عرياناً في۔۔۔499 كتاب الفضائل باب من فضائل موسى 4359 تخريج : بخارى كتاب الغسل باب من اغتسل عريانا وحده 278 ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة الاحزاب 3221