صحیح مسلم (جلد دوازدہم)

Page 273 of 359

صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 273

صحیح مسلم جلد دوازدهم 273 كتاب الفضائل حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اور آگ کا منظر دکھایا گیا۔میں نے ان دونوں کو اس حَدَّثَنَا أبي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ ح و دیوار سے ورے دیکھا۔عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أنس بهذه القصَّة [6123,6124] 1384341} حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادِ 4341: حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ نبی علیہ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ سے بعض چیزوں کے بارہ میں پوچھا گیا جنہیں حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ آپ نے نا پسند فرمایا پھر جب بہت زیادہ آپ سے أَبِي مُوسَى قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پوچھا گیا تو آپ ناراض ہوئے اور لوگوں سے فرمایا وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيْهِ جو چاہو مجھ سے پوچھو۔اس پر ایک آدمی نے کہا میرا غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَامَ ہے۔پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے (بھی آخَرُ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُوكَ یہی کہا یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے؟ حضور نے سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْه فرمایا تیرا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔جب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من حضرت عمر نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ پر جو ناراضگی الْغَضَبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا تَتُوبُ إِلَى اللَّه تھی دیکھی تو عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اللہ کے حضور وَفِي رِوَايَةٍ أَبِي كُرَيْب قَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ تو یہ کرتے ہیں۔اللَّهِ قَالَ أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ [6125] 4341: تخريج بخارى كتاب العلم باب العضب في الموعظة والتعليم 92