صحیح مسلم (جلد دوازدہم)

Page 173 of 359

صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 173

حیح مسلم جلد دوازدهم 173 كتاب الرؤيا عَبَّاس أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ اور روایت میں ہے کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہیں بتایا کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے تھے کہ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا التجيبيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْب يا رسول اللہ ! میں نے رات خواب میں ایک بدلی أَخبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنْ عُبَيْدَ دیکھی جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے اور میں نے اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ دیکھا کہ اس میں سے لوگ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ کے لے رہے ہیں کوئی زیادہ اور کوئی کم اور میں نے اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکتی دیکھی اور میں نے الله إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةَ تَنْطِفُ آپ کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ گئے پھر آپ کے بعد ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِل وہ (بھی) اوپر چڑھ گیا پھر ایک اور شخص نے پکڑا اور وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وہ (بھی) اوپر چڑھ گیا پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ تو وہ اس کی وجہ سے ٹوٹ گئی۔پھر اسے اس کے لئے مِنْ بَعْدِكَ فَعَلَا ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا جوڑ دیا گیا تو وہ بھی چڑھ گیا۔حضرت ابو بکڑ نے کہا ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ يا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم ! آپ لَهُ فَعَلَا قَالَ أَبُو بَكْرِ يَا رَسُولَ الله بأبي مجھے اجازت دیں کہ اس کی تعبیر کروں۔رسول اللہ علی أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَ عَنِّي فَلَأَعْبُرَ تَهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ نے فرمایا اس کی تعبیر بیان کرو۔حضرت ابو بکر نے کہا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْبُرْهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ یہ جو بدلی ہے یہ اسلام کی بدلی ہے اور جو گھی اور شہد أَمَّا الظُّلَّةُ فَظَلَّةُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الَّذِي تک رہا ہے یہ قرآن کی حلاوت اور ملائمت ہے اور يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ جو لوگ اس میں سے ہاتھوں سے لے رہے ہیں تو وہ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ قرآن سے زیادہ یا کم لینے والے ہیں اور جو رسی ذَلِكَ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ آسمان سے زمین تک لٹک رہی ہے یہ وہ سچائی ہے وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى جس پر آپ قائم ہیں اور جسے آپ مضبوطی -