صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 132
حیح مسلم جلد دوازدهم 132 كتاب السلام عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ لیا پھر وہ گھر کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً فَأَهْوَى إِلَيْهَا بیوی دروازے کے دونوں کواڑوں کے درمیان کھڑی الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَهُ ہے۔اس (نوجوان) نے غیرت سے اُسے مارنے ہے۔اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُل الْبَيْتَ حَتَّی کے لئے اپنا نیزہ بڑھایا۔اس نے کہا اپنا نیزہ روکو اور تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةِ گھر کے اندر جاؤ اور دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر نکالا عَظِيمَةِ مُنْطَوِيَةِ عَلَى الْفِرَاشِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا ہے۔وہ داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بڑا سانپ بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي بستر پر کنڈلی مارے ہوئے ہے۔اس نے اس کی الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا طرف اپنا نیزہ بڑھایا اور اس کو اس میں پرو دیا۔پھر وہ كَانَ أَسْرَعَ مَوْنَا الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى قَالَ فَجِئْنَا باہر نکلا اور اسے گھر میں گاڑ دیا۔تو وہ سانپ اس پر إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حملہ آور ہوا۔یہ پتہ نہیں چلا کہ کون پہلے مرا۔سانپ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ وَقُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا یا وہ نوجوان۔راوی کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبَكُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور عرض کیا بالْمَدِينَة جَنَّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اسے ہماری خاطر زندہ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ کردے۔آپ نے فرمایا اپنے دوست کے لئے ذَلكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ (140) و مغفرت کی دعا کرو۔پھر آپ نے فرمایا مدینہ کے جن حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ مسلمان ہو گئے ہیں جب تم ان میں سے دیکھو تو انہیں جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ تین دن تک خبر دار کرو۔پھر اگر اس کے بعد وہ تمہیں أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدِ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ نظر آ ئیں تو انہیں مارڈالو کیونکہ وہ ضرر رساں ہے۔السَّائِبُ وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ قَالَ ایک اور روایت میں سَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي دَخَلْنَا عَلَى أَبي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ کی بجاۓ) سَمِعْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً کے الفاظ ہیں یعنی ان کی حَرَكَةً فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ وَسَاقَ الْحَدیث چارپائی کے نیچے حرکت محسوس کی اور اس روایت میں بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكِ عَنْ صَيْفِيٌّ یہ مزید ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان گھروں