صحیح مسلم (جلد یازدہم)

Page 150 of 270

صحیح مسلم (جلد یازدہم) — Page 150

مسلم جلد یازدهم 150 کتاب اللباس والزينة۔رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ في عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں نے عطارد کو بازار میں السُّوقِ حُلَّةً سَيَرَاءَ فَلَوْ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا فروخت کے لئے ) ایک دھاری دار ریشمی جوڑا لئے لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ وَأَظْنُّهُ قَالَ ہوئے دیکھا ہے۔اگر آپ وہ خرید لیں اور جب وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ عرب کے وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوں آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ اسے پہن لیں۔( راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ فَلَمَّا انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ اسے جمعہ کے دن كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ پہنیں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے اُن سے فرمایا کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ اس دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی بحلة وَبَعَثَ إِلَى أَسَامَةَ بْن زَيْد بحلة حصّہ نہیں۔پھر بعد میں ایک مرتبہ رسول اللہ علی وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِب حُلَّةً وَقَالَ کے پاس ریشمی دھاری دار جوڑے لائے گئے۔تو شَقْقْهَا حُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ قَالَ فَجَاءَ عُمَرُ آپ نے ایک جوڑا حضرت عمر کو بھی بھجوایا۔ایک بحُلَّته يَحْمِلُهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ الله بَعَثْتَ جوڑا حضرت اسامہ بن زید کو اور ایک جوڑا إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّة حضرت علی بن ابی طالب کو بھجوایا اور فرمایا: انہیں پھاڑ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا کر اپنی عورتوں کے لئے اوڑھنیاں بنالو۔راوی کہتے إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ ہیں کہ حضرت عمر اپنا جوڑا اٹھائے ہوئے آئے اور لتصيبَ بهَا وَأَمَّا أَسَامَةً فَرَاحَ فِي حُلْتِهِ عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے یہ بھجوایا اور کل فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عطارد کے جوڑے کے بارہ میں آپ نے فرمایا تھا جو نَظَرًا عَرَفَ أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فرمایا تھا۔اس کے بعد یہ آپ نے مجھے بھجوا دیا ہے۔وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہیں اس مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا فَقَالَ إِنِّي لئے تو نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہنو بلکہ اس لئے بھیجا تھا لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لتَلْبَسَهَا وَلَكُنِّي بَعَثْتُ بِهَا کہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل کرلو۔جہاں تک إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا حُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ [5403] اسامہ کا تعلق ہے جب وہ اپنا جوڑا پہنے ہوئے آئے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو غور سے دیکھا تو وہ جان