صحیح مسلم (جلد یازدہم)

Page 130 of 270

صحیح مسلم (جلد یازدہم) — Page 130

صحیح مسلم جلد یازدهم 130 كتاب الاشربة وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس دو آدمیوں کا الْمُعْتَمر وَاللَّفْظُ لابن مُعَاذَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ کھانا ہو وہ تین آدمیوں کو لے جائے اور جس کے بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ پاس چار کا ہو وہ پانچویں چھٹے کو لے جائے یا جیسا أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَن بھی فرمایا اور حضرت ابوبکر تین آدمیوں کو لائے اور أَصْحَابَ الصُّفَّة كَانُوا نَاسًا فُقَرَاءَ وَإِنَّ في لوس آدمیوں کو لے گئے اور ابو بکر تین کو۔رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً راوی کہتے ہیں۔پس ہمارے گھر میں وہ ، میں اور مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَلَاثَةِ میرے والد اور میری والدہ اور میں نہیں جانتا کہ وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةِ فَلْيَذْهَبْ انہوں نے کہا میری بیوی اور خادم ہمارے اور ابوبکر بِخَامِس بِسَادِسٍ أَوْ كَمَا قَالَ وَإِنْ أَبَا بَكْرِ کے گھر کے درمیان تھے۔وہ کہتے ہیں اور رات کا کھانا جَاءَ بِثَلَاثَةِ وَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابو بکر نے نبی ﷺ کے ساتھ کھایا پھر وہ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَكْرِ بِثَلَاثَةٍ قَالَ فَهُوَ وَأَنَا ٹھہرے یہانتک کہ عشاء کی نماز پڑھی گئی۔پھر وہ لوٹے وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ وَامْرَأَتِي اور شہرے یہانتک کہ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آگئی پھر وَحَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ وَإِنْ رات کا ایک حصہ جیسے اللہ نے چاہا گذر جانے کے أَبَا بَكْرٍ تَعَمَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بعد وہ آئے۔ان کی بیوی نے انہیں کہا۔آپ کو آپ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صُلْبَتِ الْعِشَاءُ ثُمَّ کے مہمانوں سے کس چیز نے روک دیا ؟ یا کہا اپنے رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى نَعَسَ رَسُولُ الله صَلَّی مہمان سے۔انہوں نے کہا کیا تم نے انہیں رات اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بَعْدَمَا مَضَى مِنَ کا کھانا نہیں کھلایا ؟ انہوں نے کہا وہ نہ مانے جیتک مَا شَاءَ اللهُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ مَا کہ آپ آجائیں۔انہوں نے ان کو (کھانا) پیش کیا حَبَسَكَ عَنْ أَصْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ قَالَ تھا مگر وہ ان پر (انکار میں ) غالب آگئے ، راوی أَوَ مَا عَشَيْتِهِمْ قَالَتْ أَبَا حَتَّى تَجِيءَ قَدْ ( عبد الرحمان ) کہتے ہیں میں جا کر چھپ گیا۔انہوں عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنا نے کہا اے سست الوجود ! اور بہت برا بھلا کہا اور کہا اللَّيْلِ تخریج : بخاری کتاب مواقيت الصلاة باب السمر مع الأهل والضيف 602 كتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام 3581 كتاب الأدب باب ما يكره من الغضب والجزع۔۔۔6140 باب قول الضيف لصاحبة والله لا أكل حتى تأكل 6141 ابوداؤد كتاب الأيمان والنذور باب فيمن حلف على طعام لا يأكله 3317