صحیح مسلم (جلد یازدہم)

Page 127 of 270

صحیح مسلم (جلد یازدہم) — Page 127

صحیح مسلم جلد یازدهم 127 كتاب الاشربة صَنَعْتَ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَيَجِيءُ فَلَا محمد کے حصہ کا مشروب پی لیا ہے؟ وہ تشریف لائیں يَجِدُهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكُ فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ گے اور اسے نہ پائیں گے تو وہ تیرے خلاف دعا وَآخِرَتُكَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى کریں گے اور تو ہلاک ہو جائے گا اور تیری دنیا و قَدَمَيَّ خَرَجَ رَأْسِي وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى آخرت تباہ ہو جائے گی۔میرے اوپر ایک چادر تھی رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَايَ وَجَعَلَ لَا يَجِيتُنِي جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میرا سر باہر رہ النَّوْمُ وَأَمَّا صَاحِبَايَ فَنَامَا وَلَمْ يَصْنَعَا مَا جاتا اور جب سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں باہر نکل صَنَعْتُ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جاتے اور مجھے نیند نہ آتی تھی اور میرے دونوں ساتھی وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَى تو سو گئے اور انہوں نے وہ نہیں کیا تھا جو میں نے کیا الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ أَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ تھا۔وہ کہتے ہیں پھر نبی اللہ تشریف لائے۔آپ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى نے السلام علیکم کہا جیسے کہا کرتے تھے۔پھر مسجد گئے السَّمَاءِ فَقُلْتُ الْآنَ يَدْعُو عَلَيَّ فَأَهْلِكُ اور نماز پڑھی پھر اپنے مشروب کی طرف آئے اور اس فَقَالَ اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَأَسْقِ مَنْ سے ڈھکنا ہٹایا تو اس میں کچھ نہ پایا۔آپ نے آسمان أَسْقَانِي قَالَ فَعَمَدْتُ إِلَى السَّمْلَةِ کی طرف سر اٹھایا۔میں نے کہا اب آپ میرے فَشَدَدْتُهَا عَلَيَّ وَأَخَذْتُ السَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ خلاف دعا کریں گے اور میں ہلاک ہو جاؤں گا لیکن إِلَى الْأَعْتَزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ آپ نے کہا اے اللہ ! جو مجھے کھلائے اس کو تو کھلا الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ اور جو مجھے پلائے تو اس کو پلا۔وہ کہتے ہیں میں نے وَإِذَا هُنَّ حُفْلٌ كُلُّهُنَّ فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءِ لالِ اپنی چادر لی اور اسے اپنے اوپر مضبوطی سے باندھا اور مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانُوا چھری کی اور ان میں سے سب سے فربہ کی طرف يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ قَالَ فَحَلَبْتُ فِيهِ چل پڑا کہ اسے رسول اللہ علی کے لئے ذبح حَتَّى عَلَتْهُ رَغْوَةً فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ کروں۔دیکھا تو اس کے تھن دودھ سے بھرے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشَربْتُمْ ہوئے ہیں بلکہ ان سب کے تھن دودھ سے بھرے شَرَابَكُمُ اللَّيْلَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ الله ہوئے تھے۔پھر میں محمد عل اللہ کے گھر والوں کا ایک اشْرَبْ فَشَرِبَ ثُمَّ نَا وَلَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بر تن لایا۔ان کو خیال بھی نہ ہوتا تھا کہ اس میں دودھ