صحیح مسلم (جلد یازدہم) — Page 122
صحیح مسلم جلد یازدهم 122 كتاب الاشربة [31]14: بَاب إِبَاحَةِ أَكْلِ النُّومِ وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابَ الْكِبَارِ تَرْكُهُ وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ لہسن کھانے کا جواز اور یہ کہ وہ شخص جس کا بڑوں سے مخاطب ہونے کا ارادہ ہو اس کو چاہئے کہ اسے چھوڑ دے اور اسی طرح وہ چیز جو (لہسن ) جیسی ہو کا بیان 3813{170} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :38:13: حضرت ابوایوب انصاری سے روایت ہے وَابْنُ بَشَارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا وہ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ پیش کیا جاتا۔آپ اس میں سے کھاتے اور اس میں بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سے جو بچ جاتا وہ مجھے بھیج دیتے۔ایک دن آپ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ نے مجھے بچا ہوا کھانا بھیجا جس میں سے آپ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ نہیں کھایا تھا کیونکہ اس میں لہسن تھا۔میں نے آپ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا سے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں لیکن بِفَضْلَة لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا لِأَنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهُ میں اس کی بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ ہوں۔انہوں نے کہا جو چیز آپ نا پسند فرماتے ہیں ريحه قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ وحَدَّثَنَا میں بھی اسے نا پسند کرتا ہوں۔مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ [5357,5356] 3814 {171} و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ 3814 حضرت ابو ایوب سے روایت ہے کہ بنی ہے الشَّاعِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيد بْن صَخر ان کے ہاں اترے نبی ﷺ نچلی منزل میں اور 3813 اطراف : مسلم كتاب الاشربة باب اباحة اكل الثوم۔۔۔3814 تخریج : ترمذى كتاب الاطعمة باب ما جاء في كراهية أكل الثوم والبصل1807 :3814 اطراف : مسلم كتاب الاشربة باب اباحة اكل الثوم۔۔۔3813 تخریج: ترمذی كتاب الاطعمة باب ما جاء في كراهية اكل الثوم والبصل 1807 یہ مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے تشریف لانے کا ذکر ہے۔: