صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 37
مسلم جلد دهم 37 كتاب الامارة مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ حَبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ جب رسول اللہ ﷺ کے منادی نے پکارا " الصَّلَاةُ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى جَامِعَةٌ “ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اکٹھے ہو گئے۔مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ اس پر فرض تھا کہ وہ اپنی امت کو وہ بات جسے وہ ان صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِي کے لئے بہتر سمجھتا ہے بتائے اور اسی طرح انہیں اس قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلُّ أُمَّتَهُ عَلَى بات سے ہوشیار کرے جسے وہ ان کے لئے ضرر مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ رساں سمجھتا ہے اور تمہاری اس امت کے پہلے حصہ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي میں عافیت رکھی گئی ہے اور اس کے آخر میں آزمائش أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاء وَأُمُورٌ ہے اور ایسے امور ہیں جنہیں تم نا پسند کرتے ہو اور تُنكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا ایسے فتنے آئیں گے کہ ایک دوسرے کو بے حیثیت کر وَتَجيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ دے گا اور ایک فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا یہ تو میری مُهْلَكَتِي ثُمَّ تَنَكَشَفُ وَتَجِيءُ الْفِشَةُ فَيَقُولُ تباہی ہے۔پھر وہ جاتا رہے گا اور ایک فتنہ آئے گا الْمُؤْمِنُ هَذه هَذهِ فَمَنْ أَحَبُّ أَنْ يُزَحْزَحَ مومن کہے گا ( اصل میں ) یہ ہے وہ۔پس تم میں سے عَنِ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنيَّتُهُ وَهُوَ جو چاہتا ہے کہ آگ سے بچایا جائے اور جنت میں يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ داخل کیا جائے تو اس پر ایسی حالت میں موت آئے الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہو اور چاہیے فَأَعْطَاهُ صَفْقَةً يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ کہ لوگوں سے ایسا سلوک کرے جیسا وہ چاہتا ہے کہ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا اس سے کیا جائے۔اور جس نے کسی امام کی بیعت کی عُنُقَ الْآخَرِ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَنْشَدُكَ اور اس کو اپنا ہاتھ دے دیا اور اپنا دل اس کو دے دیا اور اللَّه آلتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُول الله وہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے۔پھر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ اگر دوسرا اس سے جھگڑنے کو آئے تو دوسرے کی وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ گردن ماردو۔میں ان کے قریب ہوا اور انہیں کہا یہ الفاظ نماز پر بلانے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔