صحیح مسلم (جلد دہم)

Page 23 of 259

صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 23

إن منْهَا مسلم جلد دهم 23 كتاب الامارة كَانَ صَادِقًا وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ اگر وہ درست بات کرتا ہے تو اس کے پاس تحفہ شَيْئًا بغَيْر حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى آتا۔بخدا تم میں سے کوئی شخص اس میں سے اپنے حق يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَأَعْرِ فَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ کے علاوہ کوئی چیز نہیں لیتا مگر وہ قیامت کے دن اسے لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاء أَوْ بَقَرَةً لَهَا اُٹھاتے ہوئے اللہ کو ملے گا۔میں ضرور تم میں سے حُوَارٌ أَوْ شَاةً تَبْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُنِي اسے پہچان لوں گا کہ جو بلبلاتا ہوا اونٹ یا ڈکراتی بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ بَصُرَ ہوئی گائے یا منمناتی ہوئی بکری اُٹھائے ہوئے ملے عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي (28) و حَدَّثَنَا أَبُو گا۔پھر آپ نے دونوں بازو اٹھائے یہانتک کہ آپ كُرَيْب حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی گئی۔پھر آپ نے کہا اے ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الله ! کیا میں نے پہنچا دیا۔( راوی کہتے ہیں ) میری عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ آنکھ نے دیکھا اور میرے کان نے سنا۔أَبي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ ایک اور روایت میں ( وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ اَحَدٌ مِنْكُمُ بهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ عَبْدَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ مِنْهَا شَيْئًا کی بجائے) تَعْلَمُنَّ وَاللَّهِ وَالَّذِي فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَفِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا کے حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ تَعْلَمُنَّ وَاللهِ وَالَّذِي الفاظ ہیں اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا حضرت ابوحمید ساعدی نے کہا میری آنکھ نے دیکھا اور وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ قَالَ بَصُرَ عَيْنِي میرے کانوں نے سنا اور (کہا) حضرت زید بن ثابت أُذُنَايَ وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ سے پوچھ لو کیونکہ وہ میرے ساتھ تھے۔ایک اور كَانَ حَاضِرًا مَعِي (29) و حَدَّثَنَاهُ إِسْحَقُ روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ صدقہ پر عامل مقرر فرمایا تو وہ بہت سا سامان عَبْدِ الله بْن ذَكْوَانَ وَهُوَ أَبُو الزَّنَادِ عَنْ لے کر آیا اور کہنے لگا یہ آپ لوگوں کے لئے ہے عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْد السَّاعدي اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔باقی روایت سابقہ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی طرح ہے۔راوی عروہ کہتے ہیں میں اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِسَوَادٍ نے حضرت ابو حمید الساعدی سے کہا کیا آپ نے وسمع