صحیح مسلم (جلد دہم)

Page 193 of 259

صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 193

مسلم جلد دهم 193 كتاب الام فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَيْشَ فَأَضْجَعَهُ کے ساتھ اے اللہ ! اسے محمد اور آل محمد اور محمد کی امت ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ بِاسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ کی طرف سے قبول فرما۔اس کے بعد اسے ذبح کیا۔مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمَنْ أُمَّةٍ مُحَمَّد ضَحَى بِهِ [5090] [4]4: بَاب : جَوَازُ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَائِرَ الْعِظَامِ باب : ہر اس چیز سے ذبح کرنا جائز ہے جو اچھی طرح خون بہائے سوائے دانت اور ناخن اور دوسری تمام ہڈیوں کے 3624{20} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :3624: حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ الْعَتَزِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ عَنْ سُفْيَانَ میں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم کل دشمن سے ملنے والے حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔آپ ﷺ حَدِيجٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ حَدِيجٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ نے فرمایا جلدی کرو یا فرمایا ہوشیاری سے کام لو۔جو الله إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدَى اچھی طرح خون بہائے اور اللہ کا نام لیا جائے تو اسے قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْجِلْ أَوْ أَرْنِي کھا سکتے ہو۔ہاں مگر دانت اور ناخن سے نہیں۔مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جہاں تک دانت کا تعلق ہے۔۔۔3624 : تخريج : بخاری کتاب الشركة باب قسمة الغنم 2488 باب من عدل عشرة من الغنم 2507 كتاب الجهاد والسير باب ما يكره من ذبح الابل والغنم فى المغانم 3075 كتاب الذبائح والصيد باب التسمية على الذبيحة ومن ترک متعمدا 5498 باب ما انهر الدم من القصب والمروة والحديد۔5503 باب لا يذكى بالسن والعظم والظفر 5506 باب ما ند من البهائم فهو بمنزلة الوحش 5509 باب اذا اصاب قوم غنيمة فذبح بعضهم غنما او ابلا بغیر امر اصحابه 5543 باب اذاند بعير لقوم فرماه بعضهم۔۔۔۔5544 ترمذى كتاب الصيد باب ماجاء في الزكاة بالقصب وغيره 1491 نسائی كتاب الصيد والذبائح الانسية تستحوش۔۔۔4297 كتاب الضحايا النهى عن الذبح بالظفر 4403 باب فى الذبح بالسن 4404 ذكر المنفلته التي لا يقدر على اخذها 4409 ، 4410 ابوداؤد کتاب الضحايا باب فى الذبيحة بالمروة 2821 ابن ماجه كتاب الضحايا النهي عن ذبح ذوات بسهم فقتله الدر۔۔۔3183 ہو سکتا ہے کہ یہ فقرہ راوی کا قول ہو۔