صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 111
مسلم جلد دهم 111 كتاب الامارة وَلَكنَّكَ فَعَلْتَ ليُقَالَ هُوَ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ وہ آگ میں پھینک أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي دِیا جائے گا اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے وسعت عطا النَّارِ و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَشْرَم أَخْبَرَنَا فرمائی اور اسے مال کی سب قسموں سے عطا فرمایا۔وہ الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بھی اللہ کے پاس) لایا جائے گا۔تو اللہ اسے اپنی حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْن سُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ نعمتوں کے بارہ میں بتائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وه ( الله ) فرمائے گا تو نے ان کے لئے کیا کام کیا؟ فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ الشَّامِيُّ وَاقْتَصَّ الْحَدیث وہ کہے گا میں نے خرچ کی کوئی راہ جس کے بارہ میں تو بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارث پسند کرتا تھا کہ اس راہ میں خرچ کیا جائے نہیں چھوڑی بلکہ میں نے اس میں تیرے لئے خرچ کیا۔اللہ فرمائے گا تو غلط کہتا ہے بلکہ تو نے اسلئے ایسا کیا کہ کہا جائے کہ وہ بھی ہے چنانچہ کہا گیا۔پھر اسکے بارہ میں حکم دیا جائے گا تو وہ منہ کے بل گھسیٹا جائے گا پھر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔[4923,4922] ایک اور روایت میں ( تَفَرَّقَ النَّاسُ کی بجائے) تَفَرَّجَ النَّاسُ کے الفاظ ہیں اور ( نَاتِلُ اَهْلِ الشَّامِ کی بجائے ) نَاتِلُ الشَّامِی کے الفاظ ہیں۔[44]17: بَاب بَيَانُ قَدْرِ ثَوَابِ مَنْ غَزَا فَغَنِمَ وَمَنْ لَمْ يَعْنَمْ باپ اس شخص کے ثواب کی مقدار کا بیان جو جہاد کرتا ہے اور مال غنیمت حاصل کرتا ہے اور وہ جو مال نقیمت حاصل نہیں کرتا 3514{154} حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا :3514 حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا رسول الله ﷺ نے فرمایا ہر لشکر جو اللہ کی راہ میں 3514 : اطراف : مسلم كتاب الامارة باب بيان قدر ثواب من غزا۔۔۔۔3515 =