صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 110
مسلم جلد دهم 110 كتاب الامارة ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ گئے تو ان سے اہلِ شام کے نائل ( نامی ) نے کہا سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي کہ اے شیخ! ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو۔انہوں نے کہا حَدَّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اچھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ پہلا شخص جس کے خلاف قیامت کے دن فیصلہ ہو گا وہ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ أَوَّلَ ایسا شہید ہو گا جسے لایا جائے گا تو وہ (اللہ ) اسے النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اپنی نعمتوں سے آگاہ کرے گا اور وہ انہیں پہچان لے اسْتُشْهِدَ فَأْتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ گا۔وہ (اللہ) کہے گا تو نے ان کے لئے کیا کام کیا؟ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى وہ کہے گا میں تیری راہ میں لڑا یہانتک کہ شہید ہو گیا اسْتُشْهِدْتُ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ اللہ فرمائے گا تو نے غلط کہا تو تو اس لئے لڑا تھا کہ تجھے لأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ بہادر کہا جائے۔چنانچہ ایسا کہا گیا پھر اس کے بارہ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ میں حکم دیا جائے گا تو وہ اپنے منہ کے بل گھسیٹا جائے وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ گا یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا اور فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ ایک اور شخص جس نے علم سیکھا اور اسے دوسروں کو فيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ سکھایا اور قرآن پڑھا اسے لایا جائے گا تو وہ (اللہ ) فِيكَ الْقُرْآنَ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ اسے اپنی نعمتوں کے بارہ میں بتائے گا تو وہ انہیں الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ پہچان لے گا۔اللہ فرمائے گا تو نے ان کے لئے کیا قَارِئُ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى کام کیا؟ وہ کہے گا میں نے علم سیکھا اور اسے دوسروں وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ الله کو سکھایا اور میں نے تیرے لئے قرآن کی تلاوت عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلَّه فَأْتِيَ کی۔وہ ( اللہ ) فرمائے گا تو نے غلط کہا بلکہ تو نے تو بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا اس لئے علم سیکھا تا کہ تجھے عالم کہا جائے اور تو نے قَالَ مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلِ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ قرآن پڑھا تا کہ یہ کہا جائے کہ وہ قاری ہے۔چنانچہ فِيهَا إِلَّا أَنفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ كَذَبْتَ ایسا کہا گیا پھر اس کے بارہ میں حکم دیا جائے گا۔تو وہ