صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 112
مسلم جلد دهم 112 كتاب الامارة حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي هَانِي عَنْ أَبِي عَبْدِ جہاد کرتا ہے اور مال غنیمت حاصل کرتا ہے تو اس نے الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ آخرت کے اجر میں سے دو تہائی پہلے ہی لے لیا اور رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اب ان کے لئے ایک تہائی باقی رہا اور اگر وہ مالِ مِنْ غَازِيَةٍ تَغْرُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِبُونَ قیمت نہ پائیں تو اُن کا اجر پورے کا پورا ہوگا۔الْغَنِيمَةَ إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الكُلْثُ وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ [4925] 3515{155} حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ 3515 حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بھی بڑا بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِي حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ یا چھوٹا لشکر جو غزوہ کرتا ہے اور مالِ غنیمت حاصل الرَّحْمَنِ الْحُبْلِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو کرتا ہے اور سلامت رہتا ہے تو انہوں نے اپنے اجر قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا دو تہائی حصہ حاصل کر لیا اور جو بڑا یا چھوٹالشکر مالِ مَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَغْرُو فَتَعْلَمُ وَتَسْلَمُ نقیمت حاصل نہ کرے اور اُن کو تکلیف پہنچے تو اُن کا إِلَّا كَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُتَيْ أُجُورِهِمْ وَمَا مِنْ اجر پورے کا پورا ہوگا۔غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّة تُحْفِقُ وَتُصَابُ إِلَّا تَمَّ أُجُورَهُمْ [4925] تخریج: نسائی کتاب الجهاد باب ثواب السرية التي تخفق 3125 ، 3126 ابوداؤد كتاب الجهاد باب في السرية تخفق 2497 ابن ماجه كتاب الجهاد باب النية في القتال 2785 3515 : اطراف : مسلم كتاب الامارة باب بيان قدر ثواب من غزا۔۔۔۔3514 تخریج : نسائی کتاب الجهاد باب ثواب السرية التي تخفق 3125 ، 3126 ابو داؤد كتاب الجهاد باب في السرية تخفق 2497 ابن ماجه كتاب الجهاد باب النية في القتال 2785