صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 58
صحیح مسلم 58 كتاب الحدود تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا فَوَاللَّهِ إِنِّي پھر جب اگلا روز آیا اس نے کہا یا رسول اللہ ! آپ لَحُبْلَى قَالَ إِمَّا لَا فَاذْهَبِي حَتَّى تَلدي فَلَمَّا مجھے کیوں لوٹاتے ہیں؟ شاید آپ مجھے لوٹاتے ہیں وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي خِرْقَةِ قَالَتْ هَذَا قَدْ جیسے آپ نے ماعز کولونا یا تھا۔اللہ کی قسم ! میں حاملہ وَلَدْتُهُ قَالَ اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهُ حَتَّى تَفْطمیه ہوں۔آپ نے فرمایا اگر ایسا ہے تو پھر نہیں ،لوٹ جا فَلَمَّا فَطَمَتْهُ اللهُ بالصَّبِيِّ في يَده كسْرَةً یہانتک کہ تو جنم دے لے۔جب اس نے بچہ کو جنم أَتَتْهُ دے لیا تو وہ بچہ کو آپ کے پاس ایک کپڑے کے حُبْرِ فَقَالَتْ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ تکڑے میں لے کر آئی۔اس نے کہا یہ ہے جسے میں أَكَلَ الطَّعَامَ فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ نے جنم دیا ہے۔آپ نے فرمایا جاؤ اور اسے دودھ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى پلاؤ یہا تک کہ تم اس کا دودھ چھڑاؤ۔پھر جب اس صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوهَا فَيُقْبِلُ خَالِدُ نے اس کا دودھ چھڑوا دیا تو وہ بچہ کو لائی۔اس کے بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَصَّحَ ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔اس نے کہا اے اللہ کے نبی! الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ نَبِيُّ یہ ہے، میں نے اسے دودھ چھڑوا دیا ہے اور یہ کھانا اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ کھانے لگ گیا ہے۔پھر آپ نے اس بچہ کو ایک مَهْلًا يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ لَقَدْ مسلمان شخص کے سپر د کیا۔پھر اس کے بارہ میں حکم دیا تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسِ لَغْفِرَ لَهُ حکم دیا اور انہوں نے اسے سنگسار کر دیا۔خالد بن ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ [4432] ولید ایک پتھر لے کر آگے بڑھے اور اس کو اس کے سر اور اس کے سینہ تک گڑھا کھودا گیا۔آپ نے لوگوں کو پر مارا تو خون کے چھینٹے خالد کے منہ پر پڑے جس پر صلى الله انہوں (خالد) نے اسے بُرا بھلا کہا۔اللہ کے نبی اے نے ان کا وہ بُرا بھلا کہنا سُن لیا اور فرمایا ٹھہر و خالد ! مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر ( ناجائز) محصول لینے والا بھی ایسی تو بہ کرے تو ضرور بخش دیا جائے۔پھر آپ نے اس کے بارہ میں ارشاد فرمایا اور اس کی نماز ( جنازہ) پڑھی اور وہ دفن کی گئی۔