صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 56 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 56

حیح مسلم جلد نهم 56 99 كتاب الحدود اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ فرما ہوئے۔پھر فرمایا ماعز بن مالک کے لئے بخشش جَلَسَ فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِمَا عِزِ بْنِ مَالِكَ قَالَ طلب کرو۔وہ کہتے ہیں اس پر وہ کہنے لگے اللہ ماعز بن فَقَالُوا غَفَرَ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكَ قَالَ فَقَالَ مالک کو معاف کرے وہ کہتے ہیں اس پر رسول اللہ ہی اللہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَابَ نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک امت تَوْبَةً لَوْ قُسَمَت بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ قَالَ ثُمَّ پر بھی تقسیم کی جائے تو ان پر بھی حاوی ہو۔وہ کہتے ہیں پھر ایک عورت آئی جواز د کی شاخ غامد سے تھی۔جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ عَامِدٍ مِنَ الْأَرْدِ فَقَالَتْ يَا اس نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے پاک کریں ، آپ نے رَسُولَ الله طَهِّرْنِي فَقَالَ وَيْحَكَ ارْجِعِي فرمایا تیرا برا ہو تو واپس جاء اللہ سے بخشش طلب کر اور فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ أَرَاكَ اس کی طرف تو بہ کر۔اس پر اس نے کہا ” میرا خیال تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي كَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ ہے آپ مجھے ویسے ہی واپس لوٹا رہے ہیں جیسے ماعز مَالِكَ قَالَ وَمَا ذَاكِ قَالَتْ إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ بن مالک کو آپ نے واپس کر دیا تھا آپ نے الزَّكَى فَقَالَ انْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ لَهَا حَتَّى فرمایا " تجھے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ وہ زنا کی وجہ تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكَ قَالَ فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ سے حاملہ ہوگئی ہے۔آپ نے فرمایا کیا تو ہو گئی ہے؟ الْأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ قَالَ فَأَتَى النَّبِيُّ اس نے کہا ہاں۔آپ نے اُسے فرمایا یہاں تک کہ تم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ وَضَعَتِ وہ جنو جو تمہارے پیٹ میں ہے۔اس عورت کی انصار الْعَامِدِيَّةُ فَقَالَ إِذًا لَا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا میں سے ایک شخص نے کفالت کی یہانتک کہ اس صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ (عورت) نے بچہ کو جنم دے دیا۔راوی بیان کرتے الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ غامدیہ ( غامد قبیلہ کی عورت ) نے بچہ کو جنم دے دیا۔آپ نے فرمایا تب تو ہم اسے رجم نہیں کریں گے اس حال میں کہ اس کے بچہ کو کم سنی میں چھوڑ دیں کہ کوئی اسے دودھ پلانے والا نہ ہو۔اس پر انصار میں سے ایک شخص کہنے لگا اے اللہ کے نبی اس بچہ کی رضاعت فَرَجَمَهَا [4431] میرے ذمہ ہے۔آپ نے فرمایا اسے رجم کر دو۔