صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 55
صحیح مسلم جلد نهم 55 كتاب الحدود سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ مَاعِرُ ہو، واپس جا اور اللہ سے استغفار کر اور تو بہ کر۔وہ کہتے بْنُ مَالِك إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہیں وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ وَيْحَكَ مجھے پاک کریں۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ قَالَ فَرَجَعَ تیرا برا ہو واپس جا اور اللہ سے بخشش طلب کر اور غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اس سے تو بہ کر۔وہ کہتے ہیں وہ تھوڑی دیر کے بعد طَهِّرْنِي فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ واپس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! مجھے پاک کریں اس صلى الله وَسَلَّمَ وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ پر رسول اللہ ﷺ نے پہلے کی طرح جواب دیا إِلَيْهِ قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيد ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا یہانتک کہ جب ایسا چوتھی مرتبہ ہوا تو رسول الله الا اللہ رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے فرمایا میں تجھے کس سے پاک کروں؟ اس نے کہا زنا سے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا اسے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ فِيمَ أَطَهِّرُكَ جنون ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ وہ مجنون نہیں ہے۔فَقَالَ مِنَ الزِّنَى فَسَأَلَ رَسُولُ الله صَلَّى پھر آپ نے فرمایا کیا اس نے شراب پی ہے؟ تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس کے منہ کی بو سونگھی بمَجْنُون فَقَالَ أَشَرِبَ خَمْرًا فَقَامَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِهِ جُنُونٌ فَأَخَبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ تو اس سے شراب کی بو نہ پائی۔وہ کہتے ہیں اس پر رَجُلٌ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے زنا کیا ہے؟ اس فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ قَالَ نے کہا ہاں۔آپ نے اس کے بارہ میں حکم دیا اور فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُسے رجم کیا گیا۔لوگ اس کے بارہ میں دو گروہ أَزَلَيْتَ فَقَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُحِمَ فَكَانَ ہو گئے ایک کہنے والا کہتا یہ ہلاک ہو گیا اس کے گناہ النَّاسُ فِيهِ فَرْقَتَيْنِ قَائِلٌ يَقُولُ لَقَدْ هَلَكَ لَقَدْ نے اسے گھیر لیا۔دوسرا کہتا ماعز کی تو بہ سے بہتر کوئی أَحَاطَتْ به خَطيئَتُهُ وَقَائِلٌ يَقُولُ مَا تَوْبَةٌ تو یہ نہیں کیونکہ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ أَفْضَلَ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزِ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ آپ کے ہاتھ میں رکھا پھر کہا مجھے پتھروں سے قتل صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِہ کردیں۔وہ کہتے ہیں پس لوگ اس حالت میں دو یا ثُمَّ قَالَ اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ قَالَ فَلَبِثُوا بِذَلِكَ تین دن رہے۔پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اور وہ لوگ بیٹھے تھے۔آپ نے سلام کیا پھر تشریف