صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 240
صحیح مسلم جلد نهم 240 كتاب الجهاد والسير ساتھ لے کر چل پڑا۔ان کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں یہانتک کہ میں انہیں لے کر رسول اللہ اللہ کے پاس پہنچا۔آپ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا وہ ٹھیک ہو گئیں۔آپ نے انہیں جھنڈا دیا اور مرحب نکلا اور اس نے کہا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ہتھیار بند ، بہادر ، تجربہ کار جبکہ جنگیں شعلے بھڑکاتی ہوئی آئیں۔حضرت علی نے کہا میں وہ ہوں میرا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے ہیبت ناک شکل والے شیر کی مانند جو جنگلوں میں ہوتا ہے میں ایک صاع کے بدلے سندرہ دیتا ہوں۔وہ کہتے ہیں انہوں نے مرحب کے سر پر ضرب لگائی اور اسے قتل کر دیا پھر ان کے ہاتھوں فتح ہوئی۔[46]48 : بَاب : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ باب : اللہ تعالیٰ کا ارشاد: وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے روکے 3359{133) حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ :3359 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ اہل مکہ کے اتنی مسلح آدمی تنعیم کے پہاڑ سے الله بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِت عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ رسول اللہ ﷺ کے پاس اترے کہ وہ نبی ﷺ اور ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَی آپ کے صحابہ کو غفلت میں پائیں اور آپ پر حملہ یہ ایک محاورہ ہے جس کا مفہوم اردو محاورہ میں سیر کے مقابلہ پر سوا سیر یا اینٹ کا جواب پتھر کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے۔سندرہ کے لفظی معنی مکیال واسع یعنی بہت بڑا پیمانہ ہے جبکہ صاع صرف تین سیر کا ہوتا ہے۔3359 : تخریج : ترمذى كتاب تفسير القرآن باب ومن سورة الفتح 3264 ابوداؤد كتاب الجهاد باب في المن على الاسير بغير فداء 2688