صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 239
صحیح مسلم جلد نهم 239 كتاب الجهاد والسير عَمَّارٍ بِهَذَا [4678] صلى الله ย فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَب فَقَتَلَهُ ثُمَّ كَانَ الْفَتْحُ ہم خیبر پہنچے تو ان کا سردار مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا عَلَى يَدَيْهِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نکلا اور وہ کہہ رہا تھا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ہتھیار بند ، بہادر ، تجربہ کار ہوں۔جب جنگیں شعلے عَنْ عَكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا الْحَدِیثِ بِطُولِهِ بھڑکاتی ہوئی آئیں۔راوی کہتے ہیں اس کے مقابلہ و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ السُّلَمِيُّ کے لئے میرے چا عامر نکلے اور انہوں نے کہا خیبر حَدَّثَنَا النَّصْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ جانتا ہے کہ میں عامر ہتھیار بند ، بہادر ، خطرات میں اپنے آپ کو ڈالنے والا ہوں۔راوی کہتے ہیں دونوں نے ضر میں لگائیں۔مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر پڑی اور عامر اس پر نیچے سے وار کرنے لگے کہ ان کی اپنی تلوار ہی ان کو آلگی اور اس نے ان کی رگ کاٹ دی اور وہ اسی سے فوت ہو گئے۔سلمہ کہتے ہیں میں نکلا تو نبی اے کے بعض صحابہ کہہ رہے تھے عامر کے عمل باطل ہو گئے۔اس نے اپنے آپ کو قتل کیا۔وہ کہتے ہیں میں روتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس آیا میں نے کہا یا رسول اللہ ! عامر کے عمل ضائع ہو گئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کس نے کہا ؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا آپ کے بعض صحابہ نے۔آپ نے فرمایا جس نے یہ کہا غلط کہا۔اس کے لئے تو دہرا اجر ہے۔پھر آپ نے مجھے حضرت علی کی طرف بھیجا ان کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں۔آپ نے فرمایا میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں میں حضرت علیؓ کے پاس گیا اور انہیں