صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 241
صحیح مسلم جلد نهم 241 كتاب الجهاد والسير رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ کر دیں۔آپ نے انہیں بغیر لڑائی کے پکڑ لیا اور ان التَّنْعِيمِ مُتَسَلْحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّی کو زندہ رکھا تو اللہ عزو جل نے یہ آیت نازل فرمائی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیئے بعد اس کے کہ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ اس نے تمہیں ان پر کامیابی عطا کی۔بِبَطْنِ يبَن مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ [4679] [47] 49 : بَابِ : غَزْوَةُ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ باب : عورتوں کا مردوں کی معیت میں غزوہ کرنا 3360(134) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :3360 حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ نے حسین کے دن ایک خنجر لیا۔وہ ان کے پاس تھا سَلَمَةَ عَنْ ثَابِت عَنْ أَنَسٍ أَنْ أُمَّ سُلَيْمٍ تو حضرت ابوطلحہ نے انہیں دیکھا۔انہوں نے کہا اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا فَكَانَ مَعَهَا يا رسول اللہ ! یہ ام سلیم ہے اس کے پاس منجر ہے۔فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذه أُمُّ رسول الله علی نے انہیں فرمایا یہ خبر کس لئے ہے؟ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ انہوں نے جواب دیا میں نے یہ اس لئے لیا ہے کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْحَنْجَرُ قَالَت اگر مشرکوں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس کا اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ پیٹ پھاڑ دوں گی۔رسول اللہ عے بننے لگے۔بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ الله صَلَّى الله انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارے بعد جو طلقاء 2 عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ (یعنی آزاد کئے گئے ) ملے جنہوں نے آپ کے 1 ( الفتح : 25) 2 مکہ کے باشندے جن کو حضور ﷺ نے لاتريب عَلَيْكُمُ الْيَومُ اِذْهَبُوا أَنْتُمُ الطلقاء کہہ کر احسان فرمایا تھا اور ان سے دو ہزار جنگ حنین میں شامل ہوئے اور دشمن کے تیروں کے سامنے بھاگ پڑے اور پرانے صحابہ کے بھی دھکیل کر پیچھے ہٹنے کا باعث بنے ان کا ذکر ہے۔