صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 238 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 238

صحیح مسلم جلد نهم 238 كتاب الجهاد والسير مُغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ کے پیچھے دوڑا۔میں اپنی طاقت بچا رہا تھا پھر میں سَيْفَ مَرْحَب فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ آہستگی سے اس کے پیچھے دوڑا پھر میں تیز ہوا اور يَسْقُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَطَعَ اُسے جالیا۔وہ کہتے ہیں میں نے اس کے کندھوں أَكْحَلَهُ فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ قَالَ سَلَمَةُ کے درمیان مکا مارا۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ کی فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ قسم ! تو پیچھے رہ گیا۔راوی نے کہا انہوں نے کہا میرا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ بَطَلَ عَمَلُ خیال ہے۔وہ کہتے ہیں میں مدینہ تک اس سے آگے عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ رہا۔وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ! ہم صرف تین راتیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ٹھہرے یہانتک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کی طرف نکلے۔وہ کہتے ہیں میرے چا عامر لوگوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ نَاسٌ کو تجزیہ اشعار پڑھ کر سنانے لگے، اللہ کی قسم ! اگر منْ أَصْحَابِكَ قَالَ كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ بَلْ ہمیں اللہ تعالیٰ ( تو ہدایت نہ دیتا ) تو ہم ہدایت نہ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٌّ وَهُوَ پاتے اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے اور ہم أَرْمَدُ فَقَالَ لَأَعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ تیرے فضل سے مستغنی نہیں اور اگر ( دشمنوں سے ) وَرَسُولَهُ أَوْ يُحبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَأَتَيْتُ ہماری بدھ بھیٹر ہو تو ہمیں ثبات قدم عطا فرمانا اور ہم عَلِيًّا فَجِئْتُ به أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّى أَتَيْتُ پر سکینت نازل فرمانا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ بهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَقَ کون ہے ؟ اس نے کہا میں عامر ہوں۔آپ نے فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ فرمایا تمہارا رب تمہاری مغفرت فرمائے۔راوی کہتے مَرْحَبْ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَب ہیں رسول اللہ ﷺ جس انسان کو مغفرت کے لئے شَاكِي السَّلَاحِ بَطَلَ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ مخصوص فرماتے وہ شہید ہو جاتا تھا۔وہ کہتے ہیں أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي حضرت عمرؓ بن خطاب نے بلند سے پکارا اور وہ اپنے أُمِّي حَيْدَرَهُ كَلَيْثِ غَابَاتِ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهُ اونٹ پر تھے اے اللہ کے نبی! آپ نے جو عامر کو أو فيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهُ قَالَ متاع دی وہ آپ نے ہمیں کیوں نہ دی۔راوی کہتے یہ ترجمہ بخاری اور مسلم کی دوسری روایات کی عبارت کی روشنی میں کیا گیا ہے۔*