صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 237
صحیح مسلم جلد نهم 237 كتاب الجهاد والسير رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ قَالَ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ بن غطفان کا ایک شخص آیا اس نے کہا فلاں شخص نے شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي ثُمَّ عَدَوْتُ ان کے لئے اونٹ ذبح کیا ہے۔جب وہ اس کی جلد فِي إِثْرِه فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ اتار رہے تھے تو انہوں نے ایک غبار دیکھا انہوں إنِّي رَفَعْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ قَالَ فَأَصْكُهُ بَيْنَ نے کہا وہ لوگ آگئے وہ وہاں سے بھی بھاگ گئے۔كَيفَيْهِ قَالَ قُلْتُ قَدْ سُقْت وَاللهِ قَالَ أَنَا جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا آج ہمارے بہترین أَظُنُّ قَالَ فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا شہسوار ابوقتادہ ہیں اور پیادوں میں سے بہترین پیادہ لَبِثْنَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ سلمہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ علی نے مجھے دو مَعَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حصے دیے ایک سوار کا اور ایک پیدل کا وہ دونوں مجھے فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللهِ لَوْلَا دیئے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے مدینہ لوٹتے ہوئے اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا مجھے عضباء اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔وہ کہتے ہیں وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتْ جب ہم جا رہے تھے تو انصار کے ایک شخص نے جس الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ سے دوڑ میں کوئی آگے نہ بڑھ سکتا تھا، اس نے کہنا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا شروع کر دیا کہ کوئی مدینہ تک دوڑ لگانے والا ہے؟ کیا قَالَ أَنَا عَامِرٌ قَالَ غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ قَالَ وَمَا کوئی دوڑ لگانے والا ہے؟ وہ اسے بار بار دہرانے لگا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وہ کہتے ہیں جب میں نے اس کی بات سنی تو میں لإِنْسَانٍ يَخْصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ قَالَ فَنَادَی نے کہا کیا تم کسی معزز کی عزت نہیں کرتے ؟ اور کسی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ يَا نَبِيَّ بزرگ سے نہیں ڈرتے ؟ اس نے کہا نہیں سوائے اس اللَّه لَوْلَا مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا کے کہ رسول اللہ ہے ہوں۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا خَيْبَرَ قَالَ خَرَجَ مَلكُهُمْ مَرْحَب يَحْطِرُ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے بسَيْفِهِ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْرُ أَنِّي مَرْحَبُ اس آدمی سے دوڑ لگانے دیں۔آپ نے فرمایا شاكِي السَّلَاحِ بَطَلَ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ (ٹھیک ہے ) اگر تم چاہتے ہو وہ کہتے ہیں میں نے کہا أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ چلو میں نے اپنی پاؤں موڑے اور چھلانگ ماری قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرٌ شَاكِي السَّلَاحِ اور دوڑ پڑا۔وہ کہتے ہیں میں ایک یا دو گھائیاں اس