صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 236
صحیح مسلم جلد نهم 236 كتاب الجهاد والسير صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ والا کوع۔وہ کہتے ہیں انہوں نے دو گھوڑے گھائی فِي ضَوْءِ النَّارِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ أَتْرَاكَ كُنتَ میں پیچھے چھوڑ دیئے۔وہ کہتے ہیں میں ان دونوں کو فَاعلَا قُلْتُ نَعَمْ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ فَقَالَ إِنَّهُمُ ہانکتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس چل پڑا۔وہ الْآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ قَالَ فَجَاءَ کہتے ہیں مجھے عامر ایک چھا گل میں تھوڑے سے رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ نَحَرَ لَهُمْ فُلَانٌ دودھ میں ملا ہوا پانی اور ایک چھاگل میں پانی لاتے جَرُورًا فَلَمَّا كَشَفُوا جِلْدَهَا رَأَوْا غُبَارًا ہوئے ملے۔پھر میں نے وضوء کیا اور پیا پھر میں فَقَالُوا أَتَاكُمُ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ فَلَمَّا رسول الله علے کے پاس آیا اور آپ اس پانی پر تھے أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جہاں سے میں نے ان لوگوں کو بھگایا تھا۔میں نے وَسَلَّمَ كَانَ خَيْرَ فُرْسَانَنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ اونٹ اور وہ سب وَخَيْرَ رَجَالَتِنَا سَلَمَةُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِي چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھڑائی تھیں لے رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ لیں۔اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں سے جو سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهُمَ الرَّاحِلِ فَجَمَعَهُمَا لِي میں نے اُن سے چھینے تھے ایک اونٹنی ذبح کی۔وہ جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ رسول الله عے کے لئے کلیجی اور کو ہان (کے گوشت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَصْبَاءِ رَاجِعِينَ سے) بھون رہے تھے۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا إلَى الْمَدِينَة قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسيرُ قَالَ یا رسول اللہ! مجھے لشکر میں سے سو آدمی منتخب کرنے کی وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا قَالَ اجازت عطا فرما ئیں تو میں ان لوگوں کا پیچھا کر کے فَجَعَلَ يَقُولُ أَلَا مُسَابِقٌ إِلَى الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ ان سب کو قتل کر دوں کہ کوئی ان کو خبر دینے والا بھی نہ مُسَابِقٍ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِكَ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ بچے۔رسول اللہ علیہ کھل کھلا کر ہنسے یہانتک کہ كَلَامَهُ قُلْتُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلَا تَهَابُ آگ کی روشنی میں آپ کے دانت مبارک دکھائی شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللهِ دینے لگے۔آپ نے فرمایا اے سلمہ ! کیا تم سمجھتے ہو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ کہ تم یہ کر سکتے ہو؟ میں نے کہا ہاں اس کی قسم ! جس الله بأَبي وَأُمِّي ذَرْنِي فَلِأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ نے آپ کو عزت عطا کی ہے۔آپ نے فرمایا اب إِنْ شِئْتَ قَالَ قُلْتُ اذْهَبْ إِلَيْكَ وَثَنَيْتُ وہ غطفان کی سرحد پر پہنچ گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں صل الله