صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 235
حیح مسلم جلد نهم 235 كتاب الجهاد والسير وَهُمْ عَطَاسٌ قَالَ فَنَظَرُوا إِلَيَّ أَعْدُو ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا یہانتک کہ وہ (اخرم ) اور وَرَاءَهُمْ فَخَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ يَعْنِي أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ عبد الرحمان با هم برسر پیکار ہوئے۔اور انہوں نے فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً قَالَ وَيَخْرُجُونَ عبد الرحمان سمیت اس کے گھوڑے کو زخمی کر دیا اور فَيَسْتَدُّونَ في ثَنِيَّة قَالَ فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلًا عبد الرحمان نے ان (اخرم) کو نیزہ مار کر شہید کر دیا مِنْهُمْ فَأَصْكُهُ بِسَهُم فِي نُعْضِ كَتِفِهِ قَالَ اور ان کے گھوڑے پر سوار ہو کر مڑا اور رسول اللہ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ کے شہسوار ابو قتادہ نے عبد الرحمان کو جالیا اور اسے الرُّضْعِ قَالَ يَا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ أَكْوَعُهُ بُكْرَةَ قَالَ نیزہ مار کر تل کر دیا۔پس اس کی قسم ! جس نے محمد اے قُلْتُ نَعَمْ يَا عَدُوٌّ نَفْسِهِ أَكْوَعُكَ بُكْرَةَ قَالَ کے چہرہ کو عزت عطا کی ہے میں نے دوڑتے ہوئے وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَى ثَنِيَّة قَالَ فَجِئْتُ بِهِمَا ان کا تعاقب جاری رکھا یہانتک کہ میں نے محمد علی ہے أَسْوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے صحابہ میں سے کسی کو اور نہ ان کے غبار کو اپنے پیچھے وَسَلَّمَ قَالَ وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا پایا یہانتک کہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے ایک مَدْقَةٌ مِنْ لَبَن وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَاءً فَتَوَضَّأْتُ گھائی میں پہنچے جہاں پانی تھا۔اسے ذی قرد کہتے وَشَربْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله تھے وہ اس سے پینا چاہتے تھے اور وہ پیاسے تھے۔وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي حَلاتُهُمْ کہتے ہیں پھر انہوں نے مجھے اپنے پیچھے دوڑتے عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوئے دیکھا میں نے ان کو وہاں سے ہٹا دیا اور وہ اس قَدْ أَخَذَ تِلْكَ الْإِبِلَ وَكُلِّ شَيْءٍ اسْتَنْقَذَتُهُ میں سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے۔وہ کہتے ہیں وہ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَكُلُّ رُمْحٍ وَبُرْدَةٍ وَإِذَا نکلے اور ایک گھائی کی طرف تیزی سے بڑھے۔وہ بِلَالٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنْ الْإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذَتُ کہتے ہیں میں بھی دوڑ میں ان میں سے جس شخص کو مِنْ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ بھی پاتا اس کے کندھے کی ہڈی میں تیر مارتا۔وہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَبدهَا وَسَنَامِهَا کہتے ہیں میں کہتا یہ لو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ الله خلني فَأَنْتَخِبُ مِنَ کمینوں کی تباہی کا دن ہے۔اس نے کہا کوع کو اس الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلَا يَبْقَى مِنْهُمْ کی ماں کھوئے ، کیا صبح والا اکوع ہے ؟ وہ کہتے مُخبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ہیں میں نے کہا ہاں اے اپنی جان کے دشمن تیرا صبح