صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 232 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 232

مسلم جلد نهم 232 كتاب الجهاد والسير اللَّيْلَةَ كَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس شخص کے لئے مغفرت کے لئے دعا کی جو اس وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَرَقِيتُ تِلْكَ پہاڑ پر رات کو چڑھے گویا وہ نبی ﷺ اور صحابہ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْن أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ کے لئے جاسوس کا کام دے۔سلمہ کہتے ہیں میں فَبَعَثَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس رات دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ پہنچے۔بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى رسول اللہ ﷺ نے اپنے اونٹ رباح کے ہاتھ بھیجے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ جو رسول اللہ ﷺ کا غلام تھا اور میں حضرت طلحہ کے بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا گھوڑے کے ساتھ اس پر سوار ہو کر نکلا اور میں اس کو إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى اونوں کے ساتھ پانی پلانے کے لئے جا رہا تھا۔جب ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صبح ہوئی تو عبد الرحمان فزاری نے رسول اللہ مے کے فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا اونٹوں پر حملہ کیا اور سب کو ہانک کر لے گیا اور ان رَبَاحُ خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ کے چرواہے کو قتل کر دیا۔راوی کہتے ہیں میں نے کہا عُبَيْدِ اللهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله اے رباح یہ گھوڑا پکڑو اور اسے طلحہ بن عبید اللہ کو پہنچا دو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى اور رسول اللہ ﷺ کو خبر دو کہ مشرکوں نے آپ کے سَرْحِهِ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ عَلَى أَكَمَةِ فَاسْتَقْبَلْتُ جانور ٹوٹ لئے ہیں۔وہ کہتے ہیں پھر میں ایک ٹیلہ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهُ ثُمَّ پر مدینہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوا اور تین دفعہ پکارا خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ یا صباحاه پھر میں ان لوگوں کے پیچھے تلاش کرتا ہوا اور وَأَرْتَجرُ أَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ انہیں تیر مارتا ہوا نکلا اور میں یہ رجزیہ اشعار پڑھ رہا الرُّضْعِ فَالْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَصْكُ سَهْمَا تھا اور میں کہہ رہا تھا میں ابن الاکوع ہوں یہ دن فِي رَحْلِهِ حَتَّى خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَى کمینوں کی تباہی کا دن ہے پس میں ان میں سے كتفه قَالَ قُلْتُ حُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَع جس شخص سے بھی ملتا تو اس کے کجاوہ میں تیر مارتا وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَع قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ یہانتک کہ تیر کا پھل نکل کر اس کے کندھے تک جا أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ پہنچتا۔وہ کہتے ہیں میں کہتا یہ لو میں اکوع کا بیٹا ہوں أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ اور آج کمینوں کی ( تباہی ) کا دن ہے۔وہ کہتے ہیں